نیب لاہو ر

کرونا وبا کے دوران ایکٹمرا وائل کی مبینہ طور پر 10گناہ مہنگے داموں فروخت پر نیب لاہو ر نے نوٹس لے لیا

لاہور (گلف آن لائن) قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور کے آگاہی و تدارک وِنگ کیجانب سے کرونا وائرس کے شکار مریضوں کے علاج معالجہ میں معاون تصورکی جانیوالی ایکٹمرا وائل کی مبینہ طور پر انتہائی مہنگے داموں فروخت کے حوالہ سے میڈیا رپورٹس پر نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ریگولیٹرز و امپورٹرز کوبریفنگ کیلئے نیب لاہور آفس میں طلب کیا گیا۔

بریفنگ نیب آرڈی نینس کے سیکشن27 اور سیکشن33 (سی)کے تحت پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کے پاکستان میں نمائندگان کیجانب سے دی گئی جس میں نیب لاہور کے آفیسران نے شرکت کی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایکٹمرا کی گذشتہ سال مئی میں حکومتی سطح پر متعین کردہ قیمت60ہزار فی وائل تھی جبکہ جولائی2020 تک ایکٹمرا کی شارٹیج رپورٹ ہونا شروع ہوئی۔ اس دوران مذکورہ وائل کی بلیک مارکیٹ میں 5 لاکھ روپے تک فروخت ہونے لگی۔حکام کیجانب سے وضاحت کی گئی کہ را میٹیریل کی عدم دستیابی کیوجہ سے Roche رواں سال دسمبر تک ایکٹمرا وائل کی پاکستان میں سپلائی معطل کر چکا ہے جبکہ فی الوقت پنجاب حکومت کیجانب سے2 دیگر وائلز کو کرونا کے شکار مریضوں کے علاج کیلئے عنقریب اجازت نامہ جاری کیا جا رہا ہے۔بریفنگ کے دوران نیب آفیسران کیجانب سے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایکٹمرا کی سوئٹزر لینڈ سے پاکستان میں سپلائی کے نظام کو مزید مستحکم کرنے کیلئے دیگر ضروری اقدامات اٹھائے جانے پر غور کیا جائے جبکہ ایکٹمرا کے حوالہ سے پھیلائی گئی افواہوں کی تردید اور عوام کی صحیح راہنمائی کیلئے ڈریپ کی ویب سائٹ پر مکمل تفصیلات جاری کی جائیں اور مختلف میڈیا فورمز پر اس حوالہ سے کیمپین کا بھی باقاعدہ آغاز کیا جائے تاکہ ایسی ادویات کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جاسکے۔اس موقع پر نیب لاہور کیجانب سے آگاہ کیا گیا کہ پاکستان کی عوام کے مفادات کا تحفظ نیب کی اولین ترجیح رہی ہے جبکہ ماضی میں نیب لاہور کی کاوشوں کے باعث کرونا وبا کے دوران سینئرسیٹیزنز کیلئے پبلک سیکٹر لیبارٹریوں سے کرونا ٹیسٹ کی لاگت میں 50 فیصد تک کمی کروائی گئی۔ اس حوالہ سے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا کہ نیب ہر فورم پر عوام کی فلاح و بہبود کیلئے تمام ممکن اقدامات اٹھانے کیلئے پیش پیش رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں