ایران کی وارننگ

قفقاذ کے خطے میں جیوپولیٹیکل تبدیلیاں برداشت نہیں،ایران کی وارننگ

ماسکو ( گلف آن لائن)ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہاہے کہ اان کا ملک قفقاذ کے خطے میں جیوپولیٹیکل تبدیلیاں برداشت نہیں کر ے گا۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایران وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے ماسکو میں اپنے روسی ہم منصب سیرگئی لاوروف کے ساتھ ملاقات میں ایران کے ہمسایہ ملک آذربائیجان پر تنقید کی۔ انہوں نے اسرائیل کے ساتھ آذربائیجان کے فوجی معاہدوں اور ایران کی شمالی سرحد کے قریب حالیہ دنوں میں ہونے والی فوجی مشقوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھاکہ ہم کسی جیوپولیٹیکل تبدیلی اور قفقاذ کے نقشے میں کسی بھی طرح کی تبدیلی کو برداشت نہیں کریں گے۔ ہمیں اس خطے میں دہشت گردوں اور صیہونیوں کی موجودگی پر شدید تشویش ہے۔

امیر عبداللہیان کا تاہم کہنا تھا کہ ایران نے صرف ایک مرتبہ فوجی مشق کی اور اس نے سفارتی ذرائع سے اس کا بہت پہلے ہی اعلان بھی کر دیا تھا۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھاکہ ایران کی فوجی مشقیں ملک کے اندر اور صرف ایرانی مسلح افواج نے کی تھیں اور ان کا مقصد خطے میں امن، دوستی اور سکیورٹی کا پیغام دینا تھا۔ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے روسی ہم منصب کے ساتھ ایرانی جوہری معاہدے پر عمل درآمد بحال کرنے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ بات چیت اب تیزی سے آگے بڑھے گی۔ میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہم اب اس معاملے میں مشاورت کو حتمی شکل دے رہے ہیں اور ویانا میں جلد ہی مذاکرات بحال ہو جائیں گے۔حسین امیر عبداللہیان نے تاہم ایران کے اس موقف کا ایک بار پھر اعادہ کیا کہ امریکا کو کم از کم بعض ایسے ایرانی اثاثے بحال کر دینا چاہییں، جو واشنگٹن کی طرف سے ایران پر عائد کردہ پابندیوں کے باعث منجمد ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں