فواد چوہدری

نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کا عمل جلد مکمل ہو جائے گا، فواد چوہدری

اسلام آباد(گلف آن لائن)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کا عمل جلد مکمل ہو جائے گا۔اپنی ٹوئٹ میں فواد چوہدری نے کہا ہے کہ نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کا عمل جلد مکمل ہو جائے گا، ایک مخصوص طبقہ اس معاملے پر جو کھیل کھیلنا چاہتا تھا وہ ناکام ہو چکا ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ اب کہا جا رہا ہے وزیر اعظم نئے ڈی جی آئی ایس آئی کے لئے انٹرویو کریں گے،ان عہدوں پر تعیناتی سے قبل ملاقات ایک عمومی روایت ہے، ایسے عمل کو بھی متنازع بنانا انتہائی نامناسب ہے۔بعد ازاں پارلیمنٹ ہائوس میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہاکہ حالات الحمدللہ بالکل ٹھیک ہیں، ہر بندہ ہر گھنٹے کے بعد اپنی مشہوری کے لیے بات ٹوئسٹ کرلیتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کا پراسس شروع ہو چکا ہے، جلد مکمل ہو جائے گا، وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ فوج اور حکومت میں کوئی اختلاف نہیں، سب ایک پیج پر ہیں، ہم اداروں کا احترام کرتے ہیں۔

قبل ازیں ایک انٹرویومیں وزیر اطلاعات نے کہاکہ آرمی چیف اور وزیراعظم کے درمیان مشاورت کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور یہ عمل جلد مکمل ہو جائے گا جس کے بعد یہ معاملہ اپنے منطقی حل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ مجھے امید ہے کہ یہ معاملہ جلد ہو جائے گا لیکن میں اس حوالے سے کوئی ٹائم فریم نہیں دے سکتا۔انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی صورتحال، افغانستان کے حالات اور آئی ایم ایف سے جاری مذاکرات کی روشنی میں پاکستان کے پاس ایک ہی مستحکم نکتہ ہے کہ پاکستان کے سول ادارے اور فوج ایک پیج پر ہیں اور اگر اس میں بھی کوئی رخنہ آتا ہے تو پاکستان کو بہت زیادہ نقصان پہنچے گا۔فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان کے تمام اداروں کے متحد رہنے میں ہی پاکستان کا مفاد ہے، ہمارے بڑے بھی یہ بات سمجھتے ہیں اور انہیں اس بات کا احساس بھی ہے اس لیے کوئی ایسا مسئلہ نہیں آئے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال کے پاکستان پر اثرات اس وقت مرتب ہوتے اگر ہمارے اداروں کے آپس میں تعلقات مستحکم نہ ہوتے لیکن ایسا کچھ نہیں ہے، ہماری تمام پالیسیاں بڑی گفتگو کے بعد بنتی ہیں اور تمام پالیسیاں پاکستان کے مفاد کے مطابق آگے بڑھیں گی۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کو اس وقت عالمی صورتحال کا بھی سامنا ہے جس کا سب کو ادراک ہے، ہم نے اب تک ساری صورتحال کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہے اور معاملات میں کامیابی سے آگے بڑھے ہیں لہٰذا مجھے امید ہے کہ پاکستان ان مشکلات سے جلد نکل آئے گا۔ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارا انتخابی عمل پر اعتبار نہیں ہے لہٰذا ہماری سیاسی چال یہی ہوتی ہے کہ تمام اپوزیشن جماعتیں اسی کوشش میں ہوتی ہیں کہ حکومت اور فوج میں اختلاف ہو اور ہم اسٹیبلشمنٹ یا فوج کے ساتھ مل کر سازش کریں اور حکومت کو ہٹا لیں، یہی ہماری سیاسی تاریخ ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ایک آپشن تو یہ ہے کہ ہم اسی پالیسی کو جاری رکھ سکتے ہیں اور دوسری صورت یہ ہے کہ سیاستدانوں کو اپنی ذمے داریوں کا احساس کرتے ہوئے بڑی اصلاحات کی جانب بڑھنا چاہیے لیکن انتخابی اصلاحات میں ہم ان باتوں پر بھی آگے نہیں بڑھ پا رہے جن پر اتفاق ہے۔انہوں نے کہا کہ جب تک پاکستان کے سیاسی رہنما اپنی ذمے داریاں نہیں سمجھیں گے، خود سے آگے دیکھنے کی صلاحیت پیدا نہیں کریں گے، اس وقت تک پاکستان کے مسئلے حل نہیں ہو سکیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں