سپریم کورٹ

نور مقدم کیس ،ضمانت کے غلط استعمال، ٹرائل میں تاخیر یا گواہان پر اثر انداز ہونے کی صورت میں ضمانت واپس لی جاسکتی ہے، سپریم کورٹ

اسلام آباد (گلف آن لائن)سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین کی ضمانت کے معاملے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا جس میں کہاگیاہے کہ ضمانت کے غلط استعمال، ٹرائل میں تاخیر یا گواہان پر اثر انداز ہونے کی صورت میں ضمانت واپس لی جاسکتی ہے۔

جمعہ کو جسٹس عمر عطا بندیال نے تین صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا جس میں سپریم کورٹ نے عصمت ذاکر کی خاتون ہونے کے ناطے درخواست ضمانت منظور کی اور انہیں 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کیلئے کہا گیا۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ ضمانت کے غلط استعمال، ٹرائل میں تاخیر یا گواہان پر اثر انداز ہونے کی صورت میں ضمانت واپس لی جاسکتی ہے۔سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ عصمت ذاکر کو فوجداری قانون کی دفعہ 497 کی ذیلی شق ایک کے تحت ضمانت دی جاتی ہے، مذکورہ قانون کے تحت 16 سال سے کم عمر ملزم، خاتون یا بیمار کو ضمانت دی جا سکتی ہے۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ ذاکر جعفر کی درخواست ضمانت واپس لینے کی بنیاد پر خارج کی جاتی ہے۔سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کا دو ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کا فیصلہ برقرار ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں