نور مقدم قتل کیس

نور مقدم قتل کیس میں ایڈیشنل سیشن جج نے عدالت نے مکمل ویڈیو فراہم کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا

اسلام آباد (گلف آن لائن)نور مقدم قتل کیس میں ایڈیشنل سیشن جج نے عدالت نے مکمل ویڈیو فراہم کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ۔ بدھ کو کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے کی،ملزمان کے وکلاء کی استدعا پر کیس کی سماعت جلد کر لی گئی، وکیل اسد جمال کی جانب سے سی سی ٹی وی ویڈیو مکمل فراہم کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ۔

وکیل اسد جمال نے کہاکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے مکمل ویڈیو فراہم کرنیکا حکم دیا ہے، پولیس کی جانب سے ویڈیو کے صرف کچھ کلپس فراہم کیے گئے ہیں۔ عدالت نے استفسار کیاکہ مدعی کے وکیل کدھر ہیں۔ وکیل بابر حیات نے کہاکہ وہ سپریم کورٹ میں مصروف ہیں۔

دوران سماعت مدعی کے وکیل بابر حیات عدالت میں پیش ہوئے ۔دوران سماعت مرکزی ملزم ظاہر جعفر سے وکیل ذوالقرنین سکندر سلیم کی جانب سے وکالت نامہ دستخط کروانے کی کوشش کی گئی ۔

مرکزی ملزم نے کہاکہ میں وکالت نامہ پر دستخط نہیں کرونگا، وکیل سے الگ میٹنگ کرنا چاہتا ہوں ۔ ملزمان کے وکلا اسد جمال،اکرم قریشی، شہزاد قریشی،سجاد بھٹی، میاں سیف اللہ اور بشارت اللہ عدالت میں پیش ہوئے ،ظاہر جعفر سمیت دیگر تمام ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا،استغاثہ کے گواہ محمد جابر کمپیوٹر آپریٹر بیان پر وکلاء کی جرح مکمل کرلی گئی ،دوران سماعت مرکزی ملزم نے بار بار بولنے کی کوشش کی ،عدالت نے مرکزی ملزم کو واپس لیجانے کا حکم دیدیا ،کیس کی سماعت یکم دسمبر تک ملتوی کر دی گئی

اپنا تبصرہ بھیجیں