سپریم کورٹ

چیف جسٹس نے نسلہ ٹاور عملدرآمد کیس میں امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کو جھاڑ پلادی

کراچی(گلف آن لائن)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزاراحمد نے نسلہ ٹاور عملدرآمد کیس میں امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کو جھاڑ پلادی، ریمارکس میں کہا کہ آپ کو اس عمارت میں کیا دلچسپی ہے، آپ کورٹ روم سے چلے جائیں۔جمعہ کوسپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں نسلہ ٹاور عملدرآمد کیس کی سماعت کے موقع پر امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن عدالت میں پیش ہوئے اور روسٹرم پر آکر بولنے کی کوشش کی۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیا کہ آپ کون ہیں؟ جواب میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ میں امیر جماعت اسلامی کراچی ہوں، سر مجھے تھوڑا سن لیں، جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا کیا انٹرسٹ ہے ؟ یہاں تقریر نہ کریں آپ کا کیس نہیں ہے، ہٹیں یہاں سے،یہاں کوئی سیاسی تقریر کی اجازت نہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپکو اس عمارت میں کیا دلچسپی ہے، کیا بات کر رہے ہیں، آپ کو ابھی توہین عدالت کا نوٹس دے دیں گے۔

چیف جسٹس نے حافظ نعیم الرحمن کوروسٹرم سے ہٹادیا اس موقع پر امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے استدعا کی کہ سر سندھ حکومت کو نسلہ ٹاور متاثرین کیلئے معاوضے کا آرڈر کر دیں،میں معاوضے کی بات کرناچاہتا ہوں، تو قاضی محمد امین احمد نے کہا کہ پلیز،کوئی بات نہیں،یہاں سے ہٹ جائیں پلیز۔جسٹس قاضی امین نے حافظ نعیم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے سنا نہیں مائی لارڈ نے کیا کہا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کورٹ روم میں کسی کو سیاست کی اجازت نہیں ہے، آپ کورٹ روم سے چلے جائیں۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ کراچی کے بنیادی مسائل پربات کرنا چاہتے ہیں، میں نے بات کرنے کی کوشش کی تو کہا گیاتوہین عدالت لگ سکتا ہے، ہم صرف نسلہ ٹاور نہیں جتنے متاثرین ہیں ان کیلئے جدوجہدکرینگے۔

انہوں نے کہاکہ یہاں پر ایک دو پلاٹس کو سامنے رکھ کرکیسزچلائے جارہے ہیں، بیوروکریسی، وڈیروں جاگیرداروں کو بھی پکڑا جائے،سارا نزلہ ان پر گرتاہے جو اپنی جمع پونجی لگاکرگھرخریدتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم اس وقت عدالتوں میں گئے تھے لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوسکی، ماضی میں کراچی کی کمیونٹی زمینوں پر ایم کیوایم،پی پی والے قبضے کیا کرتے تھے اب ایم کیوایم اورپیپلزپارٹی تعصب کی کوشش کررہی ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ کراچی کے بڑے بڑے مسائل پر عرصہ دراز سے کیسز موجود ہیں، مردم شماری پر کچھ نہیں ہورہا کے الیکٹرک پر کوئی ایکشن نہیں لیاجارہا،کراچی میں جعلی ڈومیسائل بناکرملازمتوں سے محروم کیاجارہاہے۔انہوں نے کہاکہ آپ صرف کمزوروں کااحتساب کررہے ہیں، ڈنکے کی چوٹ پربات کی ہے آئندہ بھی کروں گا، شاخوں کوکاٹنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں