سری لنکن منیجر کی لاش

سیالکوٹ کے واقعے سے سری لنکا، پاکستان کے تعلقات متاثر نہیں ہوں گے، سری لنکن ہائی کمشنر

اسلام آباد (گلف آن لائن)پاکستان میں تعینات سری لنکن ہائی کمشنر موہن وجے وکرمہ نے کہا ہے کہ سیالکوٹ میں فیکٹری ورکرز کی جانب سے سری لنکن فیکٹری مینیجر کو تشدد کر کے ہلاک کرنے اور لاش کو آگ لگانے کے واقعہ سے پاکستان اور سری لنکا کے تعلقات متاثر نہیں ہوں گے۔

پاکستان تحریک انصاف کے ایک وفد سے ملاقات کے بعد اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے کہا ہے کہ اس ملک میں کسی سری لنکن شہری کیلئے ایسا کوئی واقعہ مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ یہ واقعہ ہمارے ملک یا ہمارے مذہب کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں تھا بلکہ ایک انفرادی واقعہ تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم خوش ہیں کہ حکومت پاکستان نے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا وعدہ کیا ہے اور ہم نے دیکھا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگوں کو گرفتار کیا گیا، ریمانڈ دیا گیا اور قانونی کارروائی پر عمل کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعے کی وجہ سے ہم دونوں ممالک کے تعلقات متاثر نہیں ہوں گے، ہمارے تعلقات اس وقت سے ہیں جب ہم نے آزادی حاصل کی تھی اور اس کے بعد سے پاکستان ہمارا اچھا دوست رہا ہے ، جو ہمیشہ ہماری مدد کو آیا ہے۔سری لنکن ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ ہمیں پورا یقین ہے کہ حکومت پاکستان اس واقعے سے اس طرح سے نمٹے گی کہ متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے۔انہوں نے کہا کہ ہم حکومتی سطح پر بات چیت کررہے ہیں کہ پریانتھا جس کمپنی میں ملازم تھے وہاں سے ان کے خاندان کو معاوضہ مل سکے۔اسی موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ہم پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے سری لنکن شہری کے ساتھ پیش آئے واقعے پر معذرت اور تعزیت کرنے آئے تھے جس کی ہمیں بہت شرمندگی ہے کہ واقعہ پیش آیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کی یہ ذہنیت نہیں ہے اور خود سری لنکن ہائی کمشنر نے اس بات کو تسلیم کیا کہ 99 فیصد پاکستانی نے اس واقعے کی مذمت کی ہے۔ان کا کہا کہ پاکستانی عدنان ملک ہے جنہوں نے پریانتھا کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ انہوںنے کہاکہ ہم یہاں قوم، پارٹی کی جانب سے اس بہیمانہ واقعے کی مذمت کرنے آئے تھے اور امید ہے ہم آئندہ بحیثیت قوم سوچیں گے اور مستقبل میں ایسے واقعے کو روکنے کی کوشش کریں گے بلکہ اس ذہنیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں گے جس کی وجہ سے یہ واقعہ رونما ہوا۔

وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کے بیان سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے بیان کی تصحیح کردی ہے لیکن میں ہر اس بیان کی مذمت کروں گا جس نے اس کسی بھی طرح اس واقعے کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی، ہم اس کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔واضح رہے کہ 3 دسمبر کو سیالکوٹ میں مشتعل ہجوم نے سری لنکا سے تعلق رکھنے والے مقامی فیکٹری کے منیجر پر توہین مذہب کا الزام عائد کرتے ہوئے بہیمانہ تشدد کرکے قتل کیا اور ان کی لاش نذرِ آتش کردی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں