پاورسیکٹر

پاورسیکٹر کے مسائل حل کرنے کے لئے چوری اور لائن لاسز ختم کرنا ہوں گے، نیشنل بزنس گروپ

کراچی(گلف آن لائن)نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراور سابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ بجلی کی پیداوارمسلسل بڑھائی جا رہی ہے مگراسکی کھپت بڑھانے کے لئے کچھ نہیں کیا جا رہا ہے۔ جواشیاء ملک میں آسانی سے تیار ہوسکتی ہیں انھیں بھی درآمد کیا جا رہا ہے جسکی وجہ سے جہاں صنعتکاری کا عمل متاثرہورہا ہے وہیں بجلی کی کھپت بھی نہیں بڑھ رہی ہے۔ درآمدات کے بڑھتے ہوئے سلسلہ سے کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ بڑھنے اورروپیہ کمزورہونے کے علاوہ بجلی کے شعبے کاگردشی قرضہ بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں موسم گرما میں بجلی کی طلب ستائیس ہزارمیگاواٹ ہوتی ہے جوموسم سرما میں دس ہزارمیگاواٹ سے بھی کم ہوجاتی ہے جس سے قومی خزانے پراربوں روپے کا بوجھ پڑتا ہے اورگردشی قرضہ جنم لیتا ہے جبکہ نقصانات کا بڑا حصہ صارفین پرمنتقل کردیا جاتا ہے۔

اگرملک میں صنعت کوفروغ دیا جا رہا ہوتا توموسم گرما اورسرما میں بجلی کی طلب میں اتنا زیادہ فرق نہ ہوتا اورنہ عوام کوخطے میں سب سے مہنگی بجلی خریدنا پڑ رہی ہوتی۔ ترقی یافتہ ممالک میں بجلی کی طلب اوررسد میں پچیس سے تیس فیصد کا فرق رکھا جاتا ہے مگرپاکستان میں یہ فرق بہت زیادہ ہے اورملکی خزانے میں اسے برداشت کرنے کی سکت نہیں ہے۔ پاورسیکٹر کی تباہی کی ایک وجہ تمام حکومتوں کی جانب سے مہنگے ترین ایندھن سے بجلی بنانے کوترجیح دینا اورسستے زرائع سے بجلی بنانے کونظرانداز کرنا ہے جس سے چند افراد کوفائدہ ہوا جبکہ معیشت کوزبردست نقصان پہنچا ہے۔

اس کے علاوہ لائن لاسز اور چوری روکنے پر بھی کوئی توجہ نہیں دی جارہی۔ میاں زاہد حسین نے مذید کہا کہ آئی ایم ایف کے حکم پربجلی کی قیمت مسلسل بڑھانے سے اسکی طلب میں مذید کمی آ رہی ہے جس سے پاورسیکٹر کے نقصانات میں بھی اضافہ ہورہا ہے اور اگرحکومت چاہتی ہے کہ بجلی کی طلب میں اضافہ ہوتواسے اس حد تک سستا کرنا ہوگا کہ صارفین کی بڑی تعداد بجلی کوگیس پرترجیح دے جس سے طلب میں اضافہ، استعدادی ادائیگیوں کا مسئلہ حل جبکہ خسارہ ختم ہوجائے گا۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ سی پیک پرکام کرنے والی کمپنیوں کو جلد ازجلد ادائیگیاں کی جائیں تاکہ متعدد ترقیاتی منصوبوں کوبروقت مکمل کیا جا سکے۔ منی بجٹ کو بھی حتمی شکل دے دی گئی ہے جس سے صنعتی لاگت میں اضافہ ہوگا، صنعتی عمل مذید متاثرہوگا بلکہ عوام کی زندگی مذید دشوارہو جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں