گاڑی

وفاقی حکومت کا ملک میں بنی بنائی گاڑی کی بجائے ملک کے اندر گاڑیوں کی پیداوار بڑھانے کا فیصلہ

اسلام آباد (گلف آن لائن)وفاقی حکومت نے ملک میں بنی بنائی گاڑی کی بجائے ملک کے اندر گاڑیوں کی پیداوار بڑھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گاڑیوں کی پیداوار بڑھنے سے صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور غیرملکی زرمبادلہ بھی بچے گا،اگر گاڑی خریدنے والے کے نام پر گاڑی رجسٹر نہ ہوئی تو جرمانہ ہو گا، چھوٹی گاڑیوں پر 50 ہزار روپے جرمانہ کیا جائیگا۔ یہ بات وفاقی وزیر خسرو بختیار نے ایک انٹرویومیں بتائی ۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں ملک کے اندر آٹو انڈسٹری میں مینوفیکچرنگ سیکٹر بڑھے، تحریک انصاف کے دور میں گاڑیوں کے 42 ماڈلز آئے ہیں، ہم نے فیصلہ کیا کہ بنی بنائی گاڑی کی بجائے ملک کے اندر گاڑیوں کی پیداوار بڑھائی جائے، گزشتہ سال مقامی سطح پر 2 لاکھ 11 ہزار گاڑیاں بنیں، حکومت کی طرف سے متعارف کرائی گئی میری گاڑی سکیم کے تحت گزشتہ پانچ ماہ کے دوران 1 لاکھ 61 ہزار گاڑیاں بن چکی ہیں۔

خسرو بختیار نے کہا کہ موجودہ حکومت نے پہلی مرتبہ گاڑی خریدنے والے کو سہولت فراہم کرنے کیلئے ڈیوٹی کم کی جس سے گاڑیوں کی ڈیمانڈ بڑھی تاہم مارکیٹ میں ڈیمانڈ اور سپلائی میں واضح فرق ہے، موجودہ حکومت کے دور میں سات نئے پلانٹس لگے جو پروڈکشن میں گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پائیدار معاشی گروتھ میں سب سے بڑا چیلنج کرنٹ اکائونٹ خسارہ ہے، ہم نے آٹو انڈسٹری کو بغور دیکھا ہے، پچھلے سال امپورٹ بل 2.7 ارب ڈالر تھا، اگر ہم بنی بنائی گاڑی منگوائیں تو اس کا تخمینہ 4.1 ارب ڈالر ہے،آٹو پالیسی کے اندر میکنزم بنایا ہے جس کے تحت ہر چھ ماہ بعد ان نمبرز پر نظرثانی کی جائے گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ایس ایم ای پالیسی ایک دن میں نہیں بنی، تمام سٹیک ہولڈرز سے طویل مشاورت کے بعد اسے تیار کیا گیا ہے، کنسلٹنٹ بھی ہائر کئے گئے، ای سی سی میں تحفظات آئے جنہیں دور کیا گیا اس کے بعد کابینہ نے اسے منظور کیا، 2007میں ایس ایم ای پالیسی لانے کی کوشش کی گئی تاہم سوائے کاغذ کے ٹکڑے کے اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کے اندر تقریبا 50 لاکھ سے اوپر ایس ایم ای سیکٹرز ہیں جن میں آٹو پارٹ مینوفیکچر، بیوٹی پارلر، گارمنٹس اور تیس لاکھ کمرشل کنکشنز ہیں، اس پالیسی کے تحت لوگوں کو کاروبار کیلئے ایک کروڑ روپے تک قرض ملے گا اور 40 سے 60 فیصد رسک حکومت برداشت کرے گی، اب تک نو کمرشل بینکوں نے اس کی بڈ کر دی ہے حکومت کی کوشش ہے کہ مائیکرو فنانس بینکس کو بھی اس میں لے آئیں تاکہ اس کا دائرہ کار بڑھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں