لاہور چیمبر

ایکیڈیمک ریسرچ کی سمت نالج اکانومی کی طرف ہونی چاہیے’لاہور چیمبر

لاہور(گلف آن لائن )اکیڈیمک ریسرچ کا زیادہ فوکس سوشل اور انڈسٹریل ایشوز کی طرف ہو نا چاہیے، ان تمام ممالک نے تیزی سے ترقی کی جن کی ریسرچ ، اکیڈیمیا کو انڈسٹری سے لنک کر دیا گیا۔ ان خیالات کا اظہار مختلف یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز، بزنس مین، شرکاء نے لاہور چیمبر میں منعقدہ یونیورسٹی، انڈسٹری لنکجز راونڈ ٹیبل سیشن میں کیا۔لاہور چیمبر کے صدر میاں نعمان کبیر نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا جبکہ لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر میاں رحمان عزیز چن، سابق صدر میاں مصباح الرحمٰن، ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر شائستہ سہیل،زوم پر ممبر ایچ ای سی ڈاکٹر اکرم شیخ، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سید منصور سرور، یونیورسٹی ا ف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر نسیم احمد ، یونیورسٹی آف ایجوکیشن کے وائس چانسلر ڈاکٹر طلعت نصیر پاشا، لاہورگیریزن یونیورسٹی کے وائس چانسلر جنرل شہزاد سکندر ، قرشی یونیورسٹی کے وائس چانسلر عبدالرشید لون،

ڈائریکٹر اوریک ایف سی کالج یونیورسٹی ڈاکٹر کوثر اے ملک ، لاہور چیمبر کی کمیٹی برائے انڈسٹری اکیڈیمیا لنکج کے کنوینر ڈاکٹر شاہد رضا ،مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے شرکائ،لاہور چیمبر کے ایگزیکٹیو کمیٹی ممبران نے بھی اس موقع پر خطاب کیا ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ اس سیشن کے انعقاد کا مقصد ہائر ایجوکیشن کمیشن کو انڈسٹری کی مستقبل کی ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہے۔ پاکستان کے اہم اقتصادی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مضبوط انڈسٹری اکیڈمی لنکیج سب سے اہم ذریعہ ہے۔جن ممالک میں صنعتی اکیڈمی کا موثر تعلق ہے ان کی پیداواری صلاحیت اور مسابقتی معیشتیں زیادہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ تحقیق اور اختراع کے لیے سازگار ماحول قائم کرنے کے لیے متعدد ممالک یونیورسٹی اور صنعت کے روابط کو مجموعی قومی پالیسی فریم ورک کے ساتھ مربوط کرنے کے لیے متنوع طریقوں کو باقاعدہ بنانے پر کام کر رہے ہیں۔ ہمیں صرف ان کے نقش قدم پر چلنے کی ضرورت ہے۔ملک کی اختراع اور ترقی کے لیے صنعت اور اکیڈمی کا ربط ناگزیر ہے۔

یہ درآمدات کی جگہ لے کر اور درآمدی بل کو کم کرکے مہنگا زرمبادلہ بچا سکتا ہے۔ یہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے وسیع مواقع کا بھی وعدہ کرتا ہے۔میاں نعمان کبیر نے کہا کہ یونیورسٹیوں کو ایک کاروباری مرکز کے طور پر بھی کام کرنا چاہیے تاکہ انٹرپرائز ز اشتراک کے ذریعے اقتصادی ترقی میں براہ راست مشغول ہو سکیں۔لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر میاں رحمان عزیز چن نے اس موقع پر کہا کہ لاہور چیمبر صنعت اور اکیڈمی کو سہولت فراہم کرنے کے لیے اپنے کردار کو سمجھتا ہے ہم چاہتے ہیں کہ ہم کاروباری اداروں کے فروغ کے لیے بات چیت کر سکیں جو عملی تحقیقی کام کے ساتھ اچھی طرح سے معاون ہیں۔انہوں نے کہا کہ گرتی ہوئی پیداواری صلاحیت اور جمود کا شکار برآمدات بھی ایسے روابط کو موثر انداز میں قائم کرنے کا مطالبہ کرتی ہیں۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ ایچ ای سی کو ملک کے معروف چیمبرز آف کامرس کے ساتھ قریبی رابطے میں اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر شائستہ سہیل نے کہا کہ ایچ ای سی ریسرچ پر 5 بلین روپے خرچ کرتا ہے اور گزشتہ دو دہائیوں میں پبلی کیشنز کی تعداد سینکڑوں سے نکل کر 33000 تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس، گلوبل ڈویلپمنٹ کی رینکنگ میں بہتری آئی ہے اور ملک میں پی ایچ ڈیز کی تعداد میں کئی گُنا اضافہ ہو ا ہے ۔شرکاء نے کہا کہ ہمیں ان سکلز پر توجہ دینی ہو گی جن کی مارکیٹ میں ڈیمانڈ ہو ، انہوں نے کہا کہ انڈسٹری اپنی ڈیمانڈز بتائے تاکہ ریسرچ کی سمت کا تعین کیا جاسکے ۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ڈاکومینٹڈ اکانومی 300 بلین ڈالر سے زیادہ ہے جبکہ نان ڈاکومینٹڈ اکونومی کا حجم بھی 250بلین ڈالر سے زیادہ ہے لیکن ہماری اکنامک ویسٹیج کی وجہ سے ہم اپنی اکانومی کو نبہتر نہیں کر سکے۔

ہماری ریسرچ کی سمت اس طرف ہونی چاہیئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں نالج اکانومی کو بڑھاوا دینا ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ انڈسٹری اور اکیڈیمیا لنکج سے دونوں شعبوں کو فائدہ ہو گا ۔ ہئر ایجوکیشن کمیشن انڈسٹری کی ڈیمانڈ پر 80 فیصد ریسرچ کو فنڈ کرے گا اگر انڈسٹری 20فیصد فنڈنگ پر آمادہ ہو۔ ایچ ای سی گرینڈ چیلنج فنڈز، لوکل چیلنج فنڈز، سمال اینڈ میڈیم گرانٹس نیشنل ریسرچ پروگرامز، جیسے پروگرامز متعارف کرا چکا ہے جس سے انڈسٹری کو فائدہ اُٹھانا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں