فواد چوہدری

اپوزیشن نے سپریم کورٹ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی، فواد چوہدری

اسلام آباد (گلف آن لائن)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما چوہدری فواد حسین نے کہاہے کہ اپوزیشن نے سپریم کورٹ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی، (ن )لیگ کے اکائونٹس سے سپریم کورٹ کے بینچ پر مسلسل تنقیدی حملے ہو رہے ہیں،عمران خان نے اگر اپوزیشن کے خلاف احتجاج کی کال دی تو اپنے گھروں میں رہنا مشکل ہو جائے گا،پاکستان کے عوام الیکشن کیلئے تیار ہیں،جماعت کبھی بھی الیکشن سے راہ فرار اختیار نہیں کرتی جس طرح اس وقت اپوزیشن کی جماعتیں راہ فرار اختیار کر رہی ہیں،کسی کو پاکستان میں غدداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنا نہیں چاہتے، اس پر جتنی کم بات ہو اتنا بہتر ہے۔

پیر کو میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہاکہ اپوزیشن کہہ رہی تھی کہ شہزاد اکبر ملک چھوڑ گئے ہیں، شہزاد اکبر ہمارے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ اپوزیشن نے سپریم کورٹ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی، (ن )لیگ کے اکائونٹس سے سپریم کورٹ کے بینچ پر مسلسل تنقیدی حملے ہو رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ عمران خان نے اگر اپوزیشن کے خلاف احتجاج کی کال دی تو انہیں اپنے گھروں میں رہنا مشکل ہو جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کا مفاد ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کیا جائے۔ انہوںنے کہاکہ اپوزیشن نے 22 لوگوں کو اپنی پارٹی میں ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے شامل کیا، کیا یہ آئین کا حصہ تھا؟ اپوزیشن نے آئین کی دھجیاں اڑانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کے عوام الیکشن کے لئے تیار ہیں، کوئی سیاسی جماعت کبھی بھی الیکشن سے راہ فرار اختیار نہیں کرتی جس طرح اس وقت اپوزیشن کی جماعتیں راہ فرار اختیار کر رہی ہیں۔

انہوںنے کہاکہ اپوزیشن کی جماعتیں الیکشن اور عوام سے کیوں بھاگ رہی ہیں؟۔ فواد چوہدری نے کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ہم آگے بڑھیں گے لیکن اگر سپریم کورٹ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی تو ہم مزاحمت کریں گے۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے خط کی تفصیلات عوام کے سامنے نہیں رکھیں۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ پارلیمانی سیکورٹی کمیٹی کے اجلاس میں اپوزیشن رہنمائوں کو شرکت کی دعوت دی لیکن وہ نہیں آئے، ہم کسی کو پاکستان میں غدداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنا نہیں چاہتے، اس پر جتنی کم بات ہو اتنا بہتر ہے۔انہوںنے کہاکہ شہباز شریف نے کہا ہے کہ وہ نگران سیٹ اپ کے لئے پراسیس کا حصہ نہیں بنیں گے۔ انہوںنے کہاکہ نگران سیٹ اپ کے لئے صدر کی جانب سے لکھے گئے خط کے لئے ہم نے اپنے دو نام بھجوا دیئے ہیں، شہباز شریف اگر وزیراعظم کے لئے نام نہیں دیتے تو ان میں سے ایک نام فائنل ہو جائے گا۔

انہوںنے کہاکہ شہباز شریف مشاورت کا حصہ نہیں بنتے تو یہ ان کی اپنی مرضی ہے، پورا ملک الیکشن کے لئے تیار ہے، 90 روز کے اندر الیکشن ہونے ہیں۔ سینیٹر فیصل جاوید نے کہاکہ ہم جشن منا رہے ہیں ،قوالیوں کا بھی بندوبست ہے،اس کی ایک وجہ ہے ،آج سے کچھ دن پہلے جب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت تھی ۔ انہوںنے کہاکہ آدھے سے زیادہ وقت کورونا میں گزرا ،مہنگائی کا مسئلہ تھا،ہم نے بتانے کی کوشش کی کہ دنیا بھر میں مہنگائی ہے ،پی ڈی ایم نے ایک بیرونی سازش اور عدم اعتماد کی تحریک جمع کرا کر احسان کیا ،ہمارے ورکرز میں نئی جان آئی ۔ انہوںنے کہاکہ یہ بہت عرصے سے جلدی الیکشن کرانے کا کہتے تھے ،ہم نے کہا کہ اب آئیں، الیکشن میں اور یہ اب بھاگ رہے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ عالمی تین ایجنٹ سازش کے کر آئے اور عمران خان نے اسے ناکام نا دیا ہے ،ہم الیکشن کی تیاری کر رہے ہیں ،ہم نظریاتی کارکنوں کو ترجیح دینگے اور قیادت سے بھی درخواست کر رہا ہوں ۔

انہوںنے کہاکہ الیکشن مشینوں پر ہونگے ،جس کی وجہ صاف شفاف الیکشن ہو گا ،اوورسیز پاکستانی آسانی ووٹ دے سکیں گے ۔شہباز گل نے کہاکہ آرٹیکل 6 بار بار بتایا جاتا ہے، اس سے پہلے آرٹیکل 5 بھی ہے ،اب اس عدالت میں بڑھ چڑھ کر آتے ہیں ،ہم بھی عدالت سے استدعا کریں گے ،بلاول اور زرداری واشنگٹن میں کس کس سے ملاقات کی ،کیا بلاول کی کس عہدے دار سے ملاقات ہوئی تھی ،راجہ ریاض کو گھر میں کوئی دوسری بار سالن نہیں دیتے وہ وہاں کس سے مل رہے تھے ،کیا نواز شریف اسرائیلی لوگوں سے ملتے رہے ہیں یا نہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں