شیری رحمن

ہمیں عدالت سے امید ہے نظریہ ضرورت کے برعکس آئین اور جمہوریت کا علم اونچا کیا جائیگا، شیری رحمن

اسلام آباد (گلف آن لائن)نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ ہمیں عدالت سے امید ہے نظریہ ضرورت کے برعکس آئین اور جمہوریت کا علم اونچا کیا جائیگا۔ اپنے بیان میں انہوںنے کہاکہ امید ہے آئین شکنی کے راستے ہمیشہ کیلئے بند کئے جائینگے۔ انہوںنے کہاکہ اسپیکر کی آئین کے خلاف رولنگ حرف آخر نہی ہو سکتی، اسپیکر اگر 197 ارکان کو غدار ڈکلیئر کریگا کیا اس کو چیلنج یا مسترد نہیں کیا جا سکتا؟ ۔

انہوںنے کہاکہ اسپیکر نے خود دو بار آئین شکنی کی ہے، پہلی بار اسپیکر نے 14 دن کے اندر اجلاس نا بلا کر آئین شکنی کی، دوسری بار اسپیکر نے عدم اعتماد کی تحریک کو غیر آئینی رولنگ سے مسترد کر کے آئین شکنی کی، شیری رحمن نے کہاکہ عدالت کو اس اسپیکر کی رولنگ کو شدید الفاظ میں مسترد کرنا چاہیے،عمران خان یہ کہنا بند کرے کہ ہم الیکشن سے بھاگ رہے ہیں۔

انہوںنے کہاکہ انتخابات عوام اور اپوزیشن کا مشترکہ مطالبہ تھا، لیکن آئین اور اسمبلی توڑ کر اپنی مرضی سے الیکشن نہیں کرا سکتے۔ انہوںنے کہاکہ ملک میں آئین اور قانون بھی کوئی چیز ہوتی ہے، پہلے آپ کی آئین شکنی کا حساب ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ الیکشن کمیشن نے بھی 3 ماہ کے اندر انتخابات کرانے پر خدشات کا اظہار کیا ہے، ملک کو آئینی اور انتظامی طور پر مفلوج کر کے آپ الیکشن کرانا چاہتے ہیں؟۔انہوںنے کہاکہ ہم الیکشن سے پہلے انتخابی اصلاحات چاہتے ہیں تاکہ آپ کے دھاندلی کے راستے بند ہو، امید ہے عدالت آئین اور جمہوریت کے حق میں فیصلہ دے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں