ڈالر

اوپن مارکیٹ میں ڈالر191 روپے، انٹربینک مارکیٹ میں 189روپے کی بلند سطح پر پہنچ گیا

کراچی(گلف آن لائن)ملک میں موجودہ سیاسی حالات کے پیش نظرکرنسی مارکیٹ میں روپے کی بے قدری اور ڈالر کی قیمت میں تیزی سے اضافے کا سلسلہ جاری ہے، کاروباری ہفتے کے چوتھے روز جمعرات کو بھی امریکی ڈالر کی اونچی اڑان جاری رہی۔انٹر بینک میں ڈالر 2.87پیسے مہنگا ہونے کے بعد تاریخ میں پہلی بار 189 روپے پر پہنچ گیاجبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 3 روپیہ 50 پیسے مہنگا ہونے کے بعد ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 191روپے پر پہنچ گیا ہے۔8 مارچ سے اب تک انٹربینک میں ڈالر 10 روپے 26 پیسے مہنگا ہوا۔ ڈالر مہنگا ہونے سے قرضوں کے بوجھ میں 1200 ارب روپے اضافہ ہواہے۔ملک میں جاری سیاسی ہلچل کے سبب ملکی مبادلہ مارکیٹوں میں روپیہ کو ڈالر کے مقابلے میں بدترین گراوٹ کا سامنا ہے۔

ملکی تاریخ میں پہلی بار انٹر بینک میں ڈالر189روپے کی ریکارڈ سطح پر جاپہنچا۔ اسی طرح یورو 50 پیسے اضافے سے 203 روپے اور برطانوی پانڈ ایک روپے کے نمایاں اضافے سے 243 روپے اور 50 پیسے پر جاپہنچا۔معاشی ماہرین کے مطابق امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں گزشتہ کئی ماہ سے دبائو کا سامنا ہے لیکن پیر سے دبائوکی شدت بڑھ گئی ہے۔ماہرین کے مطابق ملک میں جاری بڑی سیاسی کشمکش اتوار کو بحرانی صورتحال میں تبدیل ہونے کی وجہ سے پاکستانی روپے کی قدر پر دبائوبڑھ گیا ہے۔اس سے قبل انٹر بینک میں جنوری کے مہینے میں کوئی خاص فرق نہیں آیا جب کہ فروری میں ڈالر تقریبا ایک روپے مہنگا ہوگیا اور مارچ کے مہینے میں ڈالر کی قدر 177.41روپے سے بڑھ کر183.48روپے ہوگئی تھی.

یعنی مارچ کے مہینے میں ڈالر6.07روپے کا اضافہ ہوا جب کہ اپریل کے دوران اب تک 3 روز میں ڈالر 5 روپے سے زائد مہنگا ہوچکا ہے جس کے نتیجے میں ڈالرکی قدر میں ہونے والا اضافہ 10.26 روپے تک پہنچ گیا ہے جس سے ملکی قرضوں کی مالیت میں 1200 ارب روپے کا اضافہ ہوگیا ہے۔دوسری جانب اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی مارچ کے دوران ڈالرکی قدر 178روپے سے بڑھ کر 184.50روپے ہوگئی یعنی مارچ میں ڈالر کی قدر میں 6.50روپے کا اضافہ ہوا جب کہ اپریل میں بھی اب تک اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر اب تک 5روپے تک بڑھ چکا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق تجارتی اور کرنٹ اکائونٹ خسارہ بڑھنے کے باعث ملکی زرمبادلہ کے ذخائرگررہے ہیں جس کا دبا پاکستانی روپے پربھی مرتب ہورہا ہے۔معاشی مشکلات کے ساتھ ملک میں سیاسی بحرانی صورتحال بھی شامل ہونے سے پاکستانی روپے پر دبائومزید بڑھ گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں