یوکرین

یوکرین میں ریپ اور جنسی تشدد کے بڑھتے واقعات پراظہار تشویش

نیویارک(گلف آن لائن)اقوام متحدہ کی خواتین کے بہبود کی ایجنسی نے روس کی جانب سے یوکرین میں ریپ کو جنگی حربہ کے طور پر مبینہ استعمال کو روکنے کی اپیل کی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یوکرین میں روسی فوجیوں کے ذریعہ مبینہ طورپر ریپ اور جنسی تشدد کے بڑھتے واقعات پر اقو ام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تبادلہ خیال کیا گیا۔صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے کام کرنے والی اقوام متحدہ کی ایجنسی کی سربراہ سیما باہوس نے کہاکہ یوکرین کی انسانی حقوق کی تنظیم لااسٹراڈاکی صدر کیٹریناسیریپاخانے سلامتی کونسل کو بتایا کہ روسی حملہ آور یوکرین میں اب جنسی تشدد اور ریپ کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ سیما باہوس نے میٹنگ میں کہاکہ ہمیں ریپ اور جنسی تشدد کے مسلسل بڑھتے واقعات کی خبریں مل رہی ہیں۔میٹنگ کے بعد اقوام متحدہ خواتین تنظیم کے ٹوئٹر اکاونٹ پر ایک بیان جاری کیا گیا جس میں ریپ اور جنسی تشدد کے مبینہ واقعات کی تفتیش کرانے کی اپیل کی گئی۔ٹوئٹ میں کہا گیاکہ ہم یوکرین میں ریپ اور جنسی تشدد کی مذمت کرتے ہیں۔

ان کی فورا تفتیش کی جانی چاہئے اور قصورواروں کو اس کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہئے،یہ تشدد اب ختم ہونا چاہئے۔اقوام متحدہ میں روس کے نائب سفیر دمتری پولانسکی نے کہاکہ یہ الزامات روسی فوجیوں کو سادیت پسند اور ریپسٹ کے طور پر پیش کرنے کے واضح مقصد سے لگائے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ روس، جیسا کہ ہم ایک سے زائد بار کہہ چکے ہیں، شہری عوام کے خلاف جنگ نہیں کررہا ہے۔یوکرین کی انسانی حقوق کی رہنما لدمیلا ڈینسووا نے بتایا کہ ان کی تنظیم ریپ اور جنسی تشدد کے متعدد واقعات کی دستاویز بندی کررہی ہے۔

انہوں نے بتایاکہ بوچہ پر قبضے کے دوران وہاں ایک مکان کے تہہ خانے میں 14سے 24برس عمر کی تقریبا ِ25 لڑکیوں اور خواتین کے ساتھ منظم انداز میں ریپ کیا گیا۔ ان میں سے نو حاملہ ہیں۔انہو ں نے مزید بتایاکہ روسی فوجیوں نے ان لڑکیوں اور خواتین سے کہا کہ وہ ان کا اس طرح ریپ کریں گے کہ اس کے بعد انہیں پھر کبھی کسی مرد کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے کی خواہش نہیں رہ جائے گی اور وہ یوکرینی بچے پیدا نہیں کرسکیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں