القدس

مسجد اقصی میں کشیدگی کے بعد القدس آمد کے تمام راستے اسرائیل نے سیل کر دیئے

مقبوضہ بیت المقدس (گلف آن لائن )اسرائیل نے مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس کے درمیان رابطے کے لیے استعمال ہونے والی تمام گزرگاہیں بند کرنے کا اعلان کردیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گذشتہ روز بعد دوپہر مسجد اقصی میں شروع ہونے والی تشدد کی لہر کے نتیجے میں سیکڑوں فلسطینی زخمی ہو گئے جب کہ یہودیوں کے مذہبی تہوار کی آڑ میں فلسطینیوں کے خلاف طاقت کا استعمال شروع کر دیا گیا ہے۔اس نام نہاد تہوار کے موقعے پر یہودیوں کی بڑی تعداد مسجد اقصی میں داخل ہو گئی تھی۔ دوسری طرف فلسطینی روزہ داروں نے انتہا پسند یہودیوں کو روکنے کی کوشش کی۔

فلسطینی حکام کے اخباری بیانات میں کہا گیا کہ انہوں نے یروشلم کی صورت حال کے حوالے سے مصر اور اردن کے ساتھ مشاورت کی ہے۔ عرب ممالک کے حکام اسرائیل کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ مسجد اقصی سے اسرائیلی فوج کو نکالا جا سکے۔یروشلم کے وکلا کی ایک ٹیم مسجد اقصی کے اندر سے جمعے کے روز گرفتار کیے گئے 400 فلسطینیوں کا کیس لڑنے کی تیاری کر رہی ہے، جہاں یہ ٹیم زیر التوا مقدمے کی ضمانت پر رہائی کی درخواستیں جمع کرانے کے لیے کام کر رہی ہے۔اسی حوالے سے فلسطینی ایوان صدر کے سرکاری ترجمان نبیل ابو رودینہ نے کہا کہ مسجد اقصی پر دھاوا بولنے اور قابض فوج کے مسجد میں داخل ہونے سے جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک خطرناک پیش رفت اور مقدسات کی بے حرمتی ہے۔ یہ ہمارے فلسطینی عوام کے خلاف اعلان جنگ کے مترادف ہے۔ایک بیان میں اسرائیلی حکام نے اشارہ دیا کہ یہ بندش ہفتے کی شام تک جاری رہے گی۔سکیورٹی کی صورتحال کے پیش نظر اس میں توسیع کی جا سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں