کارپٹ

وزیر اعظم ہاتھ سے بنے قالینوں کی کم ہوتی برآمدات کی وجوہات سے آگاہی حاصل کریں’ کارپٹ ایسوسی ایشن

لاہور(گلف آن لائن)پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے وزیر اعظم شہباز شریف کی توجہ ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت کو درپیش مسائل اور اس کی کم ہوتی برآمدات کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہاہے کہ حکومت اور مختلف ایسوسی ایشنز کے درمیان روابط کیلئے با اختیار فوکل پرسنز مقرر کئے جائیں،وزیر اعظم شہباز شریف نے جس طرح معیشت کی بہتری کیلئے سنجیدگی ظاہر کی ہے امید ہے وہ ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت کی کم ہوتی برآمدات کی وجوہات اور بہتری کیلئے تجاویز سے آگاہی کیلئے ملاقات کا وقت دیں گے۔ ایسوسی ایشن کے گروپ لیڈر عبد اللطیف ملک، وائس چیئرمین اعجاز الرحمن ، سینئر ایگزیکٹو ممبر ریاض احمد، عثمان اشرف، سعید خان اور اکبر ملک نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ بہت سے ممالک ہاتھ سے بنے قالینوں کی برآمدات سے کثیر زر مبادلہ حاصل کر رہے ہیں جبکہ ہمارے ہاں اس صنعت کو بے پناہ مشکلات درپیش ہیں جس کی وجہ سے ہماری برآمدات ہر سال کم سے کم ہوتی جارہی ہیں۔

طورخم بارڈر کے مسائل ، ہنر مند لیبر کی کمی ، انتہائی زیاد فریٹ چارجز اور خاص طو رپر عالمی نمائشوں میں بھرپور شرکت نہ ہونا اس صنعت کو درپیش مشکلات اور برآمدات میں کمی کی اہم وجوہات ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ بارہا مطالبات دہرا چکے ہیں کہ پاکستان کی مصنوعات کو دنیا کے سامنے لانے کیلئے سنگل کنٹری نمائشوں اور دنیا میں ہونے والی نمائشوں میں پاکستانی مینو فیکچررز اور برآمدکنندگان کی بھرپور شمولیت کی باضابطہ پالیسی آنی چاہیے لیکن اس پر توجہ نہیں جارہی ، بیرون ممالک سفارتخانے پاکستان کی برآمدات میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں لیکن انہیں اس طرز پر اہداف ہی نہیں دئیے جاتے ۔ ایسوسی ایشن کے رہنمائوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ وزیر اعظم شہباز شریف اس صنعت کو درپیش دیرینہ مسائل کے حل او راس کی برآمدات میں اضافے کے لئے ہمارے مطالبات پر متعلقہ اداروں کو عملی اقدامات کے احکامات جاری کریں گے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں