ہائیکورٹ

اسلام آباد ہائیکورٹ کالاپتہ افراد کا معاملہ نئی وفاقی کابینہ کے سامنے رکھنے کا حکم

اسلام آباد (کورٹ رپورٹر) اسلام آباد ہائیکورٹ نے مدثرنارواوردیگرلاپتا افراد کا معاملہ نئی وفاقی کابینہ کے سامنے رکھنے کا حکم دیتے ہوئے آئندہ سماعت پرسیکریٹری داخلہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے لاپتہ صحافی مدثر نارو کیس کی سماعت کی۔

عدالت میں جبری گمشدگی افراد کمیشن کی تازہ رپورٹ جمع کرائی گئی۔ عدالتی معاون اوردیگر فریقین سے تجاویز طلب کرلیں۔ عدالت نے کہا کہ وفاقی حکومت کو ایک موقع دیا جا رہا ہے کہ وہ پالیسی وضع کرے، عدالت نے حکم دیا کہ سیکریٹری داخلہ وفاقی حکومت سے جبری گمشدگی سے متعلق ہدایات لیکر آگاہ کرے۔

وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم نے دلائل دیے کہ 31 مارچ کی کمیشن رپورٹ ہے کہ 76 افراد مارچ میں لاپتہ ہوئے یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے جس پر عدالت نے کہا کہ سیکریٹری داخلہ مارچ میں لاپتہ ہونے والے افراد کی رپورٹ کابینہ کے سامنے پیش کریں۔ لاپتہ صحافی مدثرنارو کی والدہ نے کہا کہ میں قانون نہیں پڑھی ہوئی کوئی چوربھی ہوتا ہے تو اس کی بھی ضمانت ہوتی ہے جس پر عدالت نے کہا کہ مدثر نارو کی فیملی کے پاس مصدقہ رپورٹ ہے سیکریٹری داخلہ مدثرنارو کی فیملی سے رابطہ کرے اوربازیابی سے متعلق رپورٹ عدالت جمع کرائیں۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل سید طیب شاہ نے عدالت سے استدعا کی کہ جواب جمع کرانے کے لیے تین ہفتے کا وقت دیا جائے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ جبری گمشدگی کمیشن کی جانب سے مسنگ پرسنز کی فیملیز کو مطمئن کرنا ضروری ہے ، آگر مسنگ پرسنز کی دوبارہ شکایت آئے گی توعدالت کمیشن کو ذمہ دار ٹھہرائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جب مدثر نارو کی فیملی کے پاس مصدقہ معلومات ہے تو سیکریٹری داخلہ نے کیوں نہیں دیکھاجس ٹائم جس وقت بھی جو ہو یہ آپ لوگوں کی عدالتیں ہیں۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 17 مئی تک ملتوی کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں