ماحولیاتی تبدیلی

ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق سعودی ساکھ بہتر بنانے کا ٹاسک وزیرخارجہ کو مل گیا

ریاض (گلف آن لائن)سعودی عرب نے اپنے ایک سینئر سفارت کار اور امریکہ میں خادم حرمین شریفین کے سابق سفیر کو ماحولیات سے متعلق پہلا ایلچی مقرر کیا ہے۔ ماضی میں یہ فریضہ وزارت تیل ہی کے عہدیدار سر انجام دیا کرتے تھے۔میڈیارپورٹس کے مطابق جاری ہونے والے شاہی فرمان کی روشنی میں عادل الجبیر وزیر مملکت خارجہ امور کی ذمہ داری کے ساتھ خصوصی ایلچی برائے ماحولیات کی اضافی ذمہ داریاں بھی ادا کریں گے۔سب سے زیادہ تیل برآمد کرنے والے ملک سعودی عرب کی جانب سے ماحولیاتی پالیسی کے حوالے کی تقرری کا مفہوم فوری طور پر دنیا کی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کیونکہ ماضی میں ایسی پالیسی کا تعین وزارت توانائی کے حکام کا استحقاق رہا ہے۔وزارت توانائی ہی اب تک خام تیل کی پیداوار سے متعلق پالیسی بناتی رہی ہے۔

اسی وزارت میں ماحولیات سے متعلق امور کے اعلی مذاکرات کار خالد ابولیف ماحولیات سے متعلق غیر ملکی معاہدوں پر دستخط کرتے چلے آئے ہیں۔حالیہ دنوں میں سعودی عرب نے کئی ایسے اقدامات کا اعلان کیا جن کے ذریعے مملکت ماحولیات سے متعلق اپنی ساکھ کو بہتر بنانا چاہتا ہے۔امریکہ اور یورپ کی جانب سے مملکت پر دبا ڈالا جا رہا ہے کہ سعودی عرب گوبل وارمنگ کے معاملے پالیسی پر عمل درآمد تیز کرے۔ اسی لئے سعودی عرب اکتوبر 2060 تک زیرو نیٹ کاربن اخراج کا ہدف حاصل کرنا چاہتا ہے۔علاوہ ازیں سعودی عرب تیل سمجھتا ہے کہ دنیا کو زیادہ سے زیادہ ہائیڈرو کاربن اور صاف ایندھن کی ضرورت ہے اسی ہے وہ تیل اور گیس کی پیداوار میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ لگانا چاہتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں