امریکی سیاستدان

جمہوریت اور انسانی حقوق سے عاری امریکی سیاستدان

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی) ایک ہفتہ قبل امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر اوولڈے کے روب ایلیمنٹری اسکول میں فائرنگ کے واقعے میں 19 بچے اور دو بالغ افراد ہلاک ہوئے تھے، جس نے امریکی سماجی کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور دنیا کو بھی چونکا دیا تھا۔

دنیا کی واحد سپر پاور ہونے کے ناطے امریکہ ایک عرصے سے بچوں کو بھی تحفظ دینے سے قاصر ہے، ایسے میں امریکی سیاست دان ’’جمہوریت‘‘ اور ’’انسانی حقوق‘‘ کی بات کیسے کر سکتے ہیں؟

عام دستیاب معلومات کے مطابق، امریکی آبادی دنیا کی آبادی کا صرف 4 فیصد ہے، لیکن اس کے پاس 400 ملین سے زائد بندوقیں ہیں، جو دنیا کے کل نجی آتشیں اسلحے کا 46 فیصد بنتا ہے۔

یوں امریکہ میں نجی بندوق کی ملکیت کی شرح دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ گن وائلنس نہ صرف امریکی معاشرے کا ایک دائمی مرض ہے، بلکہ حالیہ برسوں میں عوامی سلامتی کے بگاڑ، نسلی تنازعات میں شدت اور پرتشدد قانون کے نفاذ کا نتیجہ بھی ہے۔ گن وائلنس کی “مہلک” دائمی بیماری کے سامنے، امریکی حکومت کی ناکامی نے دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ نام نہاد “امریکی طرز کی جمہوریت” عام لوگوں کی حفاظت نہیں کر سکتی، اور نام نہاد “انسانی حقوق کی روشنی” طویل عرصے سے مدھم ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں