چین کی وزارت خارجہ

چین کا ایران کے جوہری معاہدے سے متعلق تمام فریقوں کے تعمیری رویے پر زور

بیجنگ (نمائندہ خصوصی) چینی وزارت خارجہ کے ترجمان چاؤ لی جیان نے کہا ہے کہ چین متعلقہ ممالک کی مخالفت کرتا ہے جو عالمی جوہری توانائی تنظیم آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کو ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے قرارداد منظور کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

ایک مسودہ قرارداد کے مطابق امریکہ، فرانس، برطانیہ اور جرمنی آئی اے ای اےکے بورڈ آف گورنرز پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ غیر اعلانیہ مقامات پر یورینیم کے آثار کی دریافت کے بارے میں دیرینہ خدشات کی وضاحت کرتے ہوئے ایران کی ناکامی کی مذمت کرے۔ یہ اقدام ایران کو پریشان کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں 2015 کے جوہری معاہدے کو بچانے کے امکانات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔اس حوالے سے چاؤ لی جیان کا کہنا تھا کہ حقائق نے بارہا ثابت کیا ہے کہ دباؤ سے مسائل حل کرنے میں مدد نہیں ملے گی بلکہ تنازعات میں شدت آئے گی اور صورتحال مزید بگڑ جائے گی۔

اس وقت ایران کے جوہری معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے مذاکرات کی بحالی آخری مرحلے پر ہے۔ ایسے میں تصادم کا رویہ اختیار کرنے سے عالمی تنظیم کے ساتھ ایران کے تعاون کو نقصان پہنچے گا اور ایرانی جوہری مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچے گا۔
ترجمان نے زور دیا کہ چین کا موقف ہے کہ اولین ترجیح ایران کے جوہری مذاکرات کو ایک ہموار نتیجے تک پہنچانا اور ایرانی جوہری معاہدے کو دوبارہ پٹری پر لانا ہے۔معاہدےپر دوبارہ عمل درآمد شروع ہونے کے بعد، ایران کے خلاف ادارہ جاتی تحفظات سے متعلق مسائل حل ہو جائیں گے۔اس تناظر میں تمام فریق فوری فیصلے سے ایران کے معقول مطالبات کا فعال طور پر جواب دیں اور جلد از جلد حل طلب مسائل پر اتفاق رائے تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ تمام متعلقہ فریقوں کو اس حوالے سے ضروری حالات اور سازگار ماحول پیدا کرنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں