چین

چین، سمندری حیاتیاتی نظام کا تحفظ اور نیلے سیارے کی مشترکہ حفاظت

بیجنگ (نمائندہ خصوصی) بدھ کے روز 14واں عالمی یوم سمندر منایا گیا جس کا موضوع “سمندری حیاتیاتی نظام کا تحفظ اورانسان اور قدرت کی ہم آہنگ بقائے باہمی “ہے۔چینی میڈ یا کی ایک رپورٹ کے مطا بق سمندری حیاتیاتی نظام اور زمین پر بسنے والی تمام حیات کی بقا کا براہ راست تعلق ہے اور یہ سماجی و ماحولیاتی پائیدار ترقی کی بنیاد ہے۔ ہمارے نیلے سیارے کی مشترکہ حفاظت کے لیے سمندری حیاتیاتی نظام کا تحفظ اور انسان اور قدرت کے درمیان ہم آہنگ بقائے باہمی کو برقرار رکھنا اشد ضروری ہے۔

سمندری حیاتیاتی نظام ، انسانی فضلے سے مسلسل متاثر ہو رہا ہے۔ ان میں پلاسٹک مصنوعات سب سے عام سمندری فضلہ ہے۔یہ بتدریج چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تبدیل ہو کر سمندری حیات کے منہ میں داخل ہو جاتا ہے اور پھر یہی سمندری حیات کھانے سے انسانی صحت بھی متاثر ہوتی ہے۔پلاسٹک مصنوعات کے اثرات میں کمی کی خاطر مختلف ممالک سرگرم ہیں۔جون2008 میں چین نے ملک بھر میں 0.025 ملی میٹر سے کم موٹائی کی انتہائی پتلی پلاسٹک تھیلی کی پیداوار،فروخت اور استعمال پر پابندی عائد کرنے کا سلسلہ شروع کیا ۔یہی وجہ ہے کہ آج لوگوں کو اسٹورز پر فری پلاسٹک تھیلی دستیاب نہیں ہے بلکہ انہیں ماحولیاتی معیار پر پورا اترنے والی پلاسٹک تھیلی کے استعمال کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔اسی طرح ریستوران سے پیکنگ باکس بھی مفت نہیں ملتا ہے اور پلاسٹک اسٹرا کی جگہ کاغذ سے بنے اسٹرا نے لے لی ہے۔اس مہم میں سرکاری سطح کے علاوہ سماجی تنظمیں اور ادارے بھی مثبت انداز میں شریک ہیں۔حال ہی میں چین میں مقبول “اینٹ فارسٹ ” نامی ایک آن لائن گیم نے “میجک اوشین” یعنی “حیرت انگیز سمندر ” گیم بھی متعارف کروائی ہے۔اس نئی گیم میں صارفین سمندری پودوں اور فضلے کی صفائی سے سمندری حیاتیاتی نظام کو بحال کرتے ہیں۔ “اینٹ فارسٹ “میں صارفین کم کاربن رہائشی طریقہ کار کی بدولت “توانائی ” کے ذخیرے سے حقیقی درخت لگوا سکتے ہیں۔

اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ اس گیم میں کل ساٹھ کروڑ صارفین شریک ہو چکے ہیں اور انہوں نے تیس کروڑ پودے لگائے ہیں۔دوہزار انیس میں “اینٹ فارسٹ” کو اقوام متحدہ کی جانب سے ” چیمپئنز آف دی ارتھ ” ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے۔ اسی طرح “میجک اوشین “میں صارفین اپنی ذخیرہ کردہ “توانائی” سے حقیقی سمندری پودے بھی لگوا سکتے ہیں اور سمندری حیاتیات کے لیے اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔
پلاسٹک مصنوعات سے جنم لینے والی “سفید آلودگی “سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ مختلف ممالک قابل تجدید ماحول دوست مصنوعات کی تحقیقات کو بھی فروغ دے رہے ہیں۔پولی لیکٹک ایسڈ کی مثال لی جائے تویہ عام طور پر نشاستہ سے بنایا جاتا ہے اور یہ آسانی سے انحطاط پذیر ہے ۔وبا کے دوران بہت سے ممالک میں پولی لیکٹک ایسڈ سے ماسک بنائے گئے ہیں۔ چین میں حال ہی میں ایک ملبوسات ساز کمپنی نے اس سے ونڈ بریکر ملبوسات تیار کیے ہیں۔ روایتی عناصر کے مقابلے میں یہ کم آلودگی کا حامل اور ماحول دوست عنصر ہے ۔
حکومتوں اور سماجی تنظیموں کی مشترکہ کاوشوں کے تحت سمندری حیات کے تحفظ کا انسانی شعور مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ سپر مارکیٹس میں، لوگ ماحول دوست شاپنگ بیگ استعمال کرتے ہیں ۔ کیفے میں ، اکثر لوگ ڈسپوزایبل پیپر کپ استعمال کرنے کی بجائے اپنے کپ لانے کو ترجیح دے رہے ہیں ۔سفر کے لیے ، زیادہ سے زیادہ لوگ روایتی ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں کی جگہ سائیکل، پبلک ٹرانسپورٹ یا الیکٹرک گاڑیوں کا انتخاب کر رہے ہیں۔

خریداری کے دوران صارفین مصنوعات کے ماحول دوست پہلووں پر زیادہ توجہ دینے لگے ہیں۔
چینی صدر شی جن پھنگ نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ “سمندر نے ہمیں اس نیلے سیارے پر الگ الگ جزائر میں تقسیم نہیں کیا ہے بلکہ ہمیں ایک ہم نصیب معاشرے کے طور پر آپس میں جوڑا ہے۔”اس نیلے سیارے پر مختلف ممالک کی تقدیریں ایک دوسرے سے منسلک ہیں اور اس نیلے سمندر میں تمام حیات کا مستقبل بھی انسان سے وابستہ ہے۔ ہمیں متحد ہو کر اس نیلے سمندر اور نیلے آسمان کا تحفظ کرنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں