جوہری آبدوز

امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا کو جوہری آبدوز تعاون کی عالمی برادری کے سامنے وضاحت پیش کرنی چاہیے ، چینی نمائندہ

ویا نا (گلف آن لائن)
بین الاقوامی جوہری توانائی تنظیم کی کونسل نے امریکہ۔برطانیہ۔آسٹریلیا جوہری آبدوز تعاون کے تحت جوہری مواد کی منتقلی ، تحفظات اور جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ  معاہدے این پی ٹی کے تمام پہلوؤں کو متاثر کرنے والے دیگر امور کا جائزہ لیا۔ جمعہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق اقوام متحدہ کے ویانا دفتر میں چین کے مستقل نمائندے وانگ چھون نے نشاندہی کی کہ جوہری آبدوزوں سے متعلق امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا کے درمیان تعاون این پی ٹی،  تنظیم کے جامع حفاظتی معاہدے اور آسٹریلیا اور تنظیم کے دستخط شدہ اضافی پروٹوکول کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ تینوں ممالک اپنے جوہری آبدوز تعاون کے لیے کوئی بھی نام استعمال کریں اور جوہری ہتھیاروں کے متعلقہ مواد کے بہتر انتظام کے دلائل دیں ، لیکن سہ فریقی تعاون میں شامل جوہری ہتھیاروں کے مواد کی غیر قانونی منتقلی کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا ہے۔
وانگ چھون نے کہا کہ امریکہ۔برطانیہ۔آسٹریلیا جوہری آبدوز تعاون کا تعلق عالمی تزویراتی استحکام، بین الاقوامی سیکورٹی آرڈر، علاقائی امن و استحکام اور عالمی عدم پھیلاؤ کے نظام سے ہے۔ اس کے منفی اثرات کا دائرہ وسیع اور دور رس ہے،  متعلقہ بین الاقوامی اور علاقائی سلامتی میکانزم کو سیاسی نقطہ نظر سے جواب دینا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی جوہری توانائی تنظیم کو بھی اپنے دائرہ کار اور اختیار کے مطابق  اس کا جواب دینا چاہیے۔ تنظیم کے ڈائریکٹر جنرل نے تینوں ممالک کو  اُن کی متعلقہ عدم پھیلاؤ کی قانونی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی یاد دہانی کروائی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں