فہد مصطفیٰ

بیٹی کو ‘سندھی’ زبان نہ آنے کی بات کرنے پر فہد مصطفیٰ کو تنقید کا سامنا

کراچی (گلف آن لائن)آنے والی فلم ‘قائد اعظم زندہ باد’ میں جلد ایکشن دکھانے والے اداکار فہد مصطفیٰ کی جانب سے بیٹی کو ‘کورین’ زبان آنے اور ‘سندھی’نہ آنے کی بات پر تنقید کا سامنا ہے۔فہد مصطفیٰ نے حال ہی میں ماہرہ خان کے ہمراہ انٹرویو دیا، جس میں انہوں نے اپنی آنے والی فلم ‘قائد اعظم زندہ باد’ کے حوالے سے کھل کر بات کی۔اسی پروگرام میں ایک سوال کے جواب میں فہد مصطفیٰ نے بتایا کہ ان کی بیٹی 11 برس کی ہو چکی ہیں، اس لیے اب وہ ان پر زیادہ توجہ نہیں دیتے، البتہ ان کا بیٹا ابھی کم عمر ہے، اس لیے وہ ان پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ان کے مطابق بیٹا انہیں کچھ زیادہ ہی فالو کرتے ہیں اور وہ ان کے ساتھ زیادہ وقت بھی گزارتے ہیں۔اسی دوران انہوں نے بیٹی کی پسند اور ناپسند پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ سمجھدار ہو چکی ہیں اور وہ کورین پاپ بینڈ ‘بی ٹی ایس’ کو سنتی رہتی ہیں اور وہ اس کی بڑی مداح ہیں۔

اداکار کے جواب پر اینکر نے ان سے سوال کیا کہ وہ بھی بی ٹی ایس کو سنتے ہیں؟ جس پر انہوں نے بیزارگی سے جواب دیا کہ وہ انہیں نہیں سنتے۔فہد مصطفیٰ نے کہا کہ ان کی بیٹی ‘بی ٹی ایس’ کو سنتی ہیں تو سنتی رہیں، وہ ان کی مرضی ہے مگر وہ نہ تو مذکورہ بینڈ کو سنتے ہیں اور نہ ہی سنیں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں تو ‘بی ٹی ایس’ کا مفہوم بھی نہیں آتا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ شاید اس کا پورا نام ‘بہائنڈ دی سین’ ہے، جس پر بیٹی نے انہیں بتایا کہ نہیں ‘بی ٹی ایس’ کا مطلب بینگٹن اور کچھ اور ہے۔اداکار نے اس دوران تعجب کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی بیٹی ‘کورین’ زبان بول لیتی ہیں مگر وہ ‘سندھی’ نہیں بول پاتیں۔فہد مصطفیٰ نے مزید کہا کہ ان کی بیٹی کو ‘سندھی زبان’ بولنے آنی چاہیے۔فہد مصطفیٰ سندھی زبان بولنے والے ہیں اور ان کے والد صلاح الدین تنیو بھی اردو اور سندھی ڈراموں کے نامور اداکار رہے ہیں مگر ان کی اہلیہ کی مادری زبان دوسری ہے۔اداکار کی جانب سے بی ٹی ایس کے خلاف بات کرنے اور بیٹی کی جانب سے ‘سندھی’ زبان نہ بول پانے کی بات کیے جانے پر لوگوں نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کی رائے پر افسوس کا اظہار کیا۔

بعض لوگوں نے فہد مصطفیٰ کو مشورہ دیا کہ وہ پہلے بی ٹی ایس کی میوزک اور کورین ثقافت کو سمجھیں، اس کے بعد وہ سمجھ جائیں گے کہ پوری دنیا کے لوگ ‘بی ٹی ایس’ کے لیے کیوں پاگل ہوتے ہیں۔کچھ افراد نے ان پر تنقید کی کہ انہیں اپنی بیٹی کی پسند اور ناپسند کا خیال رکھنا چاہیے اور انہیں فخر کرنا چاہیے کہ ان کی بیٹی کو کورین زبان آتی ہے اور اگر ان کی بیٹی کو سندھی نہیں آتی تو وہ انہیں وہ سکھائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں