حکومت

حکومت کا پی ٹی آئی کیخلاف سپریم کورٹ ریفرنس بھیجنے کا فیصلہ

اسلام آباد (گلف آن لائن)وفاقی وزیر برائے تجارت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید نوید قمر نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کو تحلیل کرنے کے لیے ریفرنس سپریم کورٹ بھیجنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ایک انٹرویومیںوفاقی وزیر نے کہا کہ وفاقی حکومت کے پاس تحریک انصاف کے خلاف ریفرنس بھیجنے کے علاوہ اور کوئی چوائس نہیں ہے، حکومت کو سپریم کورٹ میں ریفرنس بھیجنا ہی بھیجنا ہے۔سید نوید قمر نے کہا کہ تحریک انصاف فارن فنڈڈ پارٹی ثابت ہو چکی ہے اور ایسی پارٹی کا ایک ہی علاج ہے کہ اسے تحلیل کردیا جائے۔انہوںنے کہاکہ سپریم کورٹ کے بارے میں ہمیں بھی تحفظات ہیں، تحریک انصاف کے خلاف فیصلے پر اب عدالت عظمیٰ کا بھی امتحان ہے۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا اتنا بڑا فیصلہ ہے تمام ججز بیٹھ کر فیصلہ کریں، فل کورٹ بینچ تشکیل دیا جائے، تحریک انصاف کے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے تو صرف تین افراد نہ کریں۔یاد رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے خلاف 2014 سے زیر التوا ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا گیا تھا کہ یہ ثابت ہوگیا کہ تحریک انصاف نے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی۔فیصلے میں پی ٹی آئی کو امریکا، کینیڈا اور ووٹن کرکٹ سے ملنے والی فنڈنگ ممنوعہ قرار دی گئی تھی، اس میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی نے دانستہ طور پر ووٹن کرکٹ لمیٹڈ سے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی۔

الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ تحریک انصاف نے 8 اکاؤنٹس ظاہر کیے جبکہ 13 اکاؤنٹس پوشیدہ رکھے، یہ 13 نامعلوم اکاؤنٹس سامنے آئے ہیں جن کا تحریک انصاف ریکارڈ نہ دے سکی، پی ٹی آئی نے جن اکاؤنٹس سے لاتعلقی ظاہر کی وہ اس کی سینئر قیادت نے کھلوائے تھے۔فیصلے میں الیکشن کمیشن کی جانب سے مزید کہا گیا تھا کہ عمران خان نے الیکشن کمیشن کے پاس سال 2008 سے 2013 تک غلط ڈیکلریشن جمع کروائے، چیئرمین پی ٹی آئی کے فنڈنگ درست ہونے کے سرٹیفکیٹ درست نہیں تھے۔فیصلے میں پی ٹی آئی کو ملنے والی ممنوعہ فنڈنگ ضبط کرنے کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو قانون کے مطابق اقدامات کرنے اور فیصلے کی کاپی وفاقی حکومت کو بھی بھجوانے کی ہدایت کی گئی تھی۔

مذکورہ فیصلے پر ردِ عمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا تھا کہ ممنوعہ فنڈنگ کیس کے حوالے سے وفاقی حکومت آئین و قانون کے مطابق اپنا کردار ادا کرے گی، اس پر مشاورت جاری ہے اور ایک دو روز میں اس کا فیصلہ ہوجائے گا۔انہوں نے بتایا تھا کہ اس حوالے سے قانونی اور سیاسی مشاورت کے لیے کمیٹیاں بن چکی ہیں جن کے اجلاس میں طے کردہ سفارشات پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے اجلاس میں پیش کی جائیں گی، اس اجلاس میں تمام سیاسی قیادت موجود ہوگی جو یہ فیصلہ کرے گی کہ ممنوعہ فنڈنگ کے فیصلے کے بعد آئندہ لائحہ عمل کیا ہونا ہے۔

علاوہ ازیں پی ڈی ایم کے سربراہ اور حکومت کے اتحادی مولانا فضل الرحمٰن نے گزشتہ رات ایک نیوز کانفرنس میں صدر مملکت عارف علوی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ہم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس میں عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے خلاف فرد جرم آچکا ہے لہٰذا فوری کارروائی کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں