افغانستان کے اثاثے

افغانستان کے اثاثے منجمد کیے جانے سے اس کی معاشی مشکلات میں اضافہ

کا بل (نمائندہ خصوصی)افغان طالبان کے افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد امریکہ نے افغانستان کے مرکزی بینک کے بیرونِ ملک موجود اربوں ڈالر کے اثاثے منجمد کر دیے جس کے نتیجے میں افغانستان میں زرمبادلہ کی کمی کے ساتھ ساتھ مہنگائی اور غربت میں اضافہ ہوا۔ہفتہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق 71 بین الاقوامی ماہرین اقتصادیات اور دیگر ماہرین نے امریکی حکومت کے نام ایک مشترکہ خط بھیجا ہے، جس میں افغانستان کے مرکزی بینک کے اثاثوں کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے پاس افغانستان کے مرکزی بینک کے اثاثے منجمد کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے، اس کے ساتھ ہی خط میں شدیدتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ افغانستان میں معاشی تباہی اور انسانوں کی بد حالی و تباہی کا سلسلہ جاری ہے ۔امریکی پالیسی نے ان آفات کو بڑھانے کے لیے آگ میں ایندھن ڈالنے والےکا کردار ادا کیا ہے۔

افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے بعد، امریکہ نے فوری طور پر افغانستان کے مرکزی بینک کے 7 بلین ڈالر سے زیادہ کے اثاثے منجمد کر دیےاور 2 بلین ڈالر سے زائدکے اثاثے برطانیہ، جرمنی اور متحدہ عرب امارات کے ہاتھ میں ہیں۔ ماہرین نے نشاندہی کی کہ امریکی انخلاء کے بعد افغانستان میں اقتصادی سرگرمیاں کم ہوگئیں اور غیر ملکی امداد میں تیزی سے کٹوتی کی گئی، جس سے افغان معیشت تباہی کا شکار ہوگئی، نصف سے زائد افغان آبادی کو خوراک کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑااور 30 لاکھ بچے غذائی کمی کے خطرے سے دوچار ہیں۔

افغان میڈیا نے سنٹرل بینک آف افغانستان کے حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ اگر یہ اثاثے افغانستان کو واپس کر دیے جائیں تو افغانستان کا مرکزی بینک ان رقوم کو معیشت کی بحالی اور مالیاتی منڈیوں کو مستحکم کرنے کے لیے استعمال کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں