چِپس اینڈ سائنس ایکٹ

امریکی حلقوں کا”چِپس اینڈ سائنس ایکٹ” پر ناپسندیدگی کا اظہار

بیجنگ (نمائندہ خصوصی)مختلف امریکی حلقوں نے امریکی صدر بائیڈن کے فرمان سے جاری کردہ “چِپس اینڈ سائنس ایکٹ” کے حوالے سے حالیہ دنوں اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ ہفتہ کے روز “نیو یارک ٹائمز” نے کہا کہ یہ بل پر عزم تو لگ رہا ہے، لیکن ڈر ہے کہ یہ کئی سالوں تک موثر نہیں رہے گا۔صنعتی اعداد و شمار کے مطابق، 1990 میں امریکہ کا عالمی سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ میں شیئر 37 فیصد تھا، اور 2020 میں یہ کم ہو کر صرف 12 فیصد رہ گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ امریکہ اس صورتحال میں بچاو کے لیے مختلف حربے اپنا رہا ہے۔

بیرونی دنیا کو اس ایکٹ میں اس شرط پر بھی تشویش ہے کہ امریکی سبسڈی حاصل کرنے والی کمپنیاں دس سال کے اندر چین یا دیگر ایسے ممالک جو امریکہ کے لیے باعث پریشانی ہیں اُن کے ساتھ کوئی “بڑا لین دین” یا ایڈوانس پروسیس چپس میں سرمایہ کاری نہیں کریں گی ۔ اس اقدام سے محض امریکی اسٹریٹجک اضطراب میں اضافہ ظاہر ہوتا ہے ۔حالیہ برسوں میں، چین جیسے کچھ ممالک نے سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کے شعبے میں ترقی کا تسلسل جاری رکھا ہے، جس سے امریکہ میں بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔

امریکہ کو خود ترقی کرنے کا پورا حق حاصل ہے، مگر دوسروں کی ترقی میں رخنہ اندازی کی قیمت پر نہیں۔ سرد جنگ کی ذہنیت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے چپ انڈسٹری کے لیے اس قسم کی حفاظتی پالیسی تباہ کن ہے۔ بوسٹن کنسلٹنگ گروپ اور دیگر اداروں کے اندازوں کے مطابق، اگر واشنگٹن چین کے خلاف “ہارڈ ٹیکنالوجی ڈیکپلنگ” کی پالیسی اپناتا ہے، تو یہ قلیل مدت میں چین کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے، لیکن امریکی سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کو اس سے بھی زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا، اور اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ وہ عالمی مارکیٹ شیئر کا 18 فیصد ،آمدنی کا 37 فیصد، اور 15,000 سے 40,000 اعلی ہنر مند ملازمتیں کھو دیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں