سراج الحق

پاکستان نظریہ،عقیدہ،فلسفہ ،کلمہ توحید ،نبی ۖ کے ساتھ عشق اور محبت ہے اللہ کی خاطر جینے اور مرنے کا نام ہے ‘سراج الحق

لاہور( گلف آن لائن)امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ پاکستان کے 75 یوم آزادی کے موقع پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں14 اگست ایک یاد گار مقدس اور عظیم دن ہے، اس کا منانا ہمارے اوپر واجب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں14 اگست 1947 کو وطن عزیز کی صورت میں ایک بڑے انعام سے نوازا،اس عظیم مقصد کی خاطرلاکھوں مائوں ،بہنوں،بزرگوں اور جوانوںنے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ،ہجرت کی آگ و خون کے دریاوں سے گزرے ان قربانیوں کی بدولت جو ہمیں ملک ملا ہے اس کا ذرہ ذرہ ہمارے لیے مقدس ہے ۔لیکن ہمیں اعتراف کرنا ہو گا کہ پاکستان کے لیے بہنے والے خون کیساتھ ہم انصاف نہیں کر سکے ۔

آج بھی یہاں انصاف بکتا ہے ،مظلوم پستا ہے ہمارے فیصلے آئی ایم ایف کرتا ہے حقیقی معنوں میں ہم آزاد نہیں۔ایسے حالات میںپاکستان کی خاطر لڑنا ،جد و جہد کرنا اور بہتری کے لیے کوشش کرنا عظیم جہاد ہے ۔ پاکستان صرف زمین کا ٹکرا نہیںصرف چار صوبوں، چند شہروں اور دیہاتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ پاکستان ایک نظریہ،عقیدہ،فلسفہ ،کلمہ توحید ،نبی ۖ کے ساتھ عشق اور محبت ہے اللہ کی خاطر جینے اور مرنے کا نام ہے پاکستان وقت کے طاغوت سے بغاوت کرتے ہوئے دنیا میں عد ل و انصاف اورکلمہ توحید کی بلندی کا نام ہے جو ان شا ء اللہ تا قیامت قائم اور سلامت رہے گا۔آج تجدید عہد کا دن ہے ہمیں اپنے اللہ سے وعدہ کرنا ہو گا کہ ہم جد وجہد کر کے ملک میں حقیقی معنوں میں اسلامی نظام لائیں گے

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی کے ہیڈ آفس منصورہ میں پرچم کشائی کے بعد تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کیا اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی راشد نسیم،ڈپٹی سیکرٹری جنرل وقاص انجم جعفری ،سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف،امیر ضلع لاہور ذکر اللہ مجاہد و دیگر موجود تھے۔پرچم کشائی کی تقریب میں کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ 22 کروڑ عوام امت محمدی ۖ آج عزم کرتے ہیں کہ ہمارے بزرگوں نے جس مقصد کی خاطر خون بہایا تھا اپنے بچوں کے نذرانے پیش کیے تھے اور اپنا آج ہمارے کل پر قربان کیا تھا اس ملک میں اسلامی انقلاب لائیں گے۔

اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے پناہ وسائل سے نوازا ہے خود پاکستان کا وجود میں آنا ایک معجزہ ہے الحمد للہ آ ج ہم ایٹمی طاقت ہیں اورنا قابل تسخیر بن چکے ہیں ۔ 65 فیصد پاکستانی 25 سے 30 سال کے درمیان نوجوان ہیں جو کہ کسی بہت بڑی نعمت سے کم نہیں اللہ نے زرعی زمینوں ،موسموں ،5 دریاوں ،جنگلات ،معدنیات سے نوازا ہمیں ہر وہ نعمت دی ہے جو اس دنیا میں کسی بھی ملک کوترقی خوشحالی اور باوقاربننے میں کردار ادا کر سکتی ہیں لیکن آج ہمارا یہ بھی فرض ہے کہ ہم گزشتہ 75 سال کا جائزہ لیں کیا 75 سالوں میں ہم منزل کے قریب ہو ئے ؟یا دور؟ کیا ہم ایک قوم بننے میں کامیاب ہو ئے؟کیا ہم نے پاکستان کو رنگ و نسل اورزبان کی بنیاد پر تقسیم ہونے سے بچا لیا؟لیکن افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ 75 سالوں میںہمیں اعتراف کرنا چاہیے کہ ہم انصاف نہیں کر سکے ہم پاکستان کے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکے۔نہ ہم نے نظریہ سے اور نہ جغرافیہ سے وفا کی۔ آج پاکستانی قوم نظر نہیں آرہی یہاں نسل،زبان کی بنیاد پر پاکستان کو تقسیم کیا گیا اور مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیشںبنا دیا گیا۔مغربی پاکستان کی بیورو کریسی ،سیاسی تہذیب ،اسٹیبلشمنٹ ،جرنیلوں نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے میں کردار ادا کیا۔آج سات عشروں کے بعد پاکستان اسلامی فلاحی ریاست کیوں نہیں بن سکا ؟کیوں انصاف نہیں مل رہا؟کیونکہ یہاں انصاف بکتا ہے فیصلے تبدیل ہوتے ہیں چہروں کو دیکھ کر فیصلے ہوتے ہیں ۔

سراج الحق نے کہا ہے کہ75 سال گزر گئے افسوس ہے آج بھی طبقاتی نظام تعلیم ہے ۔ہمارے تعلیمی ادارے ایک سازش کے تحت طبقاتی نظام تعلیم کو فروغ دے رہے ہیں ۔ہماری معیشت غلام ہے قومی اسمبلی نہیں بلکہ آئی ایم ایف کے بابو فیصلہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں پیٹرول ،چینی کی قیمت کیا ہو گی۔ہمارے حاکموں نے ہمارے ہاتھوںاور پائو ں میں زنجیریں اور گلوں میں آئی ایم ایف کی غلامی کا طوق ڈال دیا ہے۔ہماری زندگی موت کا مسئلہ کشمیر ہے گذشتہ سات دہائیوں سے کشمیری قوم قربانی دے رہی ہے ہماری حکومتوں نے کشمیریوں کو بھارت کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے جو کہ لمحہ فکریہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ اللہ نے ہمیں موقع دیا توہم پاکستان کو عظیم سے عظیم تر بنائیں گے۔پاکستان کو اسلامی سپر پاور اورخوشحال بنائیں گے۔

57 لاکھ ملین ایکڑ زرعی زمین کو آباد کریں گے ۔ہر پاکستانی بچے کے ہاتھ میں قلم اور کتاب ہو گی ۔بزرگوں کو بڑھاپا الائونس میراث میں بچیوں کو حصہ ،ہر نوجوان کو روز گار دیں گے۔روز گار نہ ملنے تک بیروز گاری الائونس دیں گے کشمیر کی آزدی کے لیے وہ قدم اٹھائیں گے جو ہمارے بس میں ہیں اس اسلامی اور خوشحال پاکستان کے لیے جد وجہد کریں گے۔اب جماعت اسلامی کے علاوہ اور کوئی حل نہیں ہے ۔نیب سمیت پنڈورا پیپرز ،پانامہ لیکس اور کرپشن کے کسی کیس میں جماعت اسلامی کا کوئی فرد ملوث نہیں۔ ہم کرپشن کے داغ سے پاک جبکہ دوسرے سبھی پارٹیوں سے وابستہ افراد داغدار ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں