میا ں جاوید لطیف

نواز شریف ستمبر میں پاکستان آرہے ہیں ،جیل نہیں جانے دیں گے’ میا ں جاوید لطیف

لاہور( گلف آن لائن)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے کہا ہے کہ نواز شریف ستمبر میں پاکستان آرہے ہیں ،ہمارے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے ثاقب نثار کے کہنے پر نواز شریف کو سزا سنائی گئی ، ہم نواز شریف کو جیل نہیںجانے دیں گے، ڈاکٹرز کی رائے بدلتی رہتی ہے ،عوام ڈاکٹر ہیں اور انہوںنے فیصلہ دیدیا ہے کہ اب ہماری بس ہو گئی ہے نواز شریف واپس آ جائو ،الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد عمران خان صادق اور امین نہیں رہا لہٰذا کال کوٹھڑی نہ سہی روشنی والی کوٹھڑی میں جانے کا وقت ہوا چاہتا ہے،آج بھی اس کی ڈوریاں ہلائی جارہی ہیں ،اگر اسے چند لوگوں کی حمایت حاصل نہ ہو یہ کبھی بنی گالہ نہ آئے اور پشاور میں بیٹھا رہے جہاںاسے تحفظ دینے والے حکمران بیٹھے ہیں،ہم کسی سے دوستی اورنہ دشمنی رکھنا چاہتے ہیں ،سیاسی جماعتیں بھی ادارہ ہیں اگر وہ کسی سے مدد نہ مانگیں اورجگہ جگہ جا کر یہ رونا نہ روئیں کہ ہمیں دوبارہ نوکری پر رکھ لیںتو ایسے میں ہی پاکستان بھنور سے نکل سکے گا ،نواز شریف نے پاکستان بالخصوص پنجاب کی عوام کی اس ذہن سازی کے لئے بیس سال محنت کی ہے اور اس کے لئے تکالیف اور قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں،عمران خان فتنے جیسے کردار مختلف اوقات میںاپنا کردار اد اکرتے رہے ہیں اور آج بھی کر رہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوںنے پنجاب کی سیکرٹری اطلاعات عظمی بخاری کے ہمراہ پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹائون میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ میاں جاوید لطیف نے کہا کہ عمران خان جیسے سازشوں کے مہرے گزشتہ 75سالوں میں کسی نہ کسی روپ میں سامنے آتے رہے ،میں اپنے اٹھارہ سے پچیس سال کے نوجوانوں سے پوچھنا چاہتا ہوں اور ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی تاریخ میں آزادی کے مقاصد پورے نہیں ہوئے ، قائد ملت لیاقت علی خان کو گولی لگی ، جنرل ایوب خان پاکستان کے اقتدار پر قابض ہوئے اور مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو کرپٹ ، غدار اور ان کا انتخاب چرا کر خود منتخب ہو گئے لیکن اسے کسی نے غدار نہیں کہا بلکہ پاکستان بنانے والے غدار ٹھہرے اور اس وقت بھی ایک طبقہ ایوب خان کو سچا جانتا تھا۔

جسٹس محمد منیر اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ جب میں جنرل ایوب کی کابینہ میں ان کا وزیر قانون تھا تو انہوںنے مجھے بلایا او رکہا کہ بنگالی روز حقوق اورآئین کا بڑا شور کرتے ہیں، انہیں کہہ دو اگر پاکستان کے اندر رہنا ہے تو رہیں ورنہ یہاں سے چلے جائیں ۔میںنے اس وقت کی بنگالی قیادت کو یہ پیغام پہنچایا تو انہوںنے کہا آپ ہمیں یہ بتا دیں بنگالی کی شرح کتنی ہے تو میں نے کہا کہ 58فیصد جس پر انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان میں رہیں گے آپ نے جانا ہے تو چلے جائیں لیکن غدار وہ ٹھہرے اور ایک طبقہ انہیں غدار سمجھتا رہا ، اس کے بعد ایک رنگیلے جنرل یحی آئے اور حسین سہروردی شہید اورشیخ مجیب کو غدار کہتے رہے اور ان کے کردر پر انگلیاں اٹھاتے رہے ، جو ملک ٹوٹنے کا موجب بنے وہ سچے ٹھہرے اور مگر غدار ، کرپٹ ، چور اور ڈاکو حسین سہروردی شہید ٹھہرے اور اس وقت بھی ایک طبقہ یحی خان کو ہی محب وطن با کردار اور فرشتہ نما انسان کہتا رہا ۔

بات یہاں رکتی نہیں ہے ،پاکستان کے دفاع کو نا قابل تسخیر بنانے والا ، اندھیرے دور کرنے والے کو ہائی جیک ربنا دیا گیا،ایک طبقہ یہ کہتا رہا نواز شریف ایک جنرل مشرف کو مارنے کے لئے تین سو لوگوں کی جان لینے لگا تھا لیکن بعد میں پتہ چلا یہ بات ہی غلط تھی ، جو شخص زمین پر ہے وہ کیسے طیارہ ہائی جیک کیسے کر سکتا ہے ۔ آج ایک ایسا شخص جو کچھ کہہ رہا ہے اپنے کردار کے حوالے سے بات کر رہا ہے اسے جب جسٹس (ر) ثاقب نثار جیسے لوگ صادق اور امین ثاقب کا سرٹیفکیٹ دیں تو بات کہاں جاتی ہے ۔ میرے جیسے کمزور ایمان کے مسلمان کا ایمان ہے کہ صادق اور امین انبیاء کے علاوہ کوئی نہیں ہو سکتا لیکن عمران خان کو صادق اور امین کا سرٹیفکیٹ کا دیدیا گیا ، جس کے کردار کے بارے میں پاکستان سے باہر ایک عدالت فیصلہ دے چکی ہے لیکن پھر بھی ایک طبقہ ماننے کو تیار نہیں ۔

چیف الیکشن کمشنر کا فیصلہ آنے کے بعد عمران خان چور ڈاکو اورمنی لانڈر اور غدار ہے ، جن لوگوں سے تم پیسہ لیتے رہے ہو ، تم نے دو چار ہزار یا لاکھ نہیں بلکہ کروڑوں اربوں کھربوں روپے با اثر شخصیات اور غیر ملکی کمپنیوں سے فنڈنگ کی مد میں لئے ہیں، بتائیں وہ کن مقاصد کے لئے تھی ،اگر ہسپتال کے لئے دئیے گئے تھے اس سے بڑا جرم اور کوئی نہیں ہو سکتا کہ وہ پیسے پارٹی کے اکائونٹس میں کیسے ٹرانسفر ہو گئے ،اگر پی ٹی آئی کو ملے تھے تو پاکستان کے وزیر اعظم بننے سے پہلے پیسہ دینے کا مقصد کیا تھے ،کیا آپ نے چار سالوں میںوہ مقاصد پورے کر کے دکھائے اور یقینا دکھائے ہیں،معیشت کو ڈبویا، پاکستان میں ڈالر بہتر ہونا شروع ہوا ہے تم پھر کال دے رہے ہو کہ جلسے جلوس کروں گا۔ 2017ء میں پاکستان پھل پھول رہا تھا ،یہ اکیلا مجرم نہیں ہے اس کے ساتھ ثاقب نثار مرکزی ملزم ہے ، 2017ء کا اور آج کا موازنہ کرو تو پتہ چلے گا اس میں کون کون سے کردار شامل تھے ،ان رداروں میں مرکزی کردار ثاقب نثار کا ہے ۔

کہا جاتاہے اداروں پر الزام لگاتے ہیں، جسٹس شوکت صدیقی کیا کہہ رہے ہیں،وہ کہہ رہے ہیں آج بھی کس طرح بنچ بنتے ہیں ، محترم جسٹس فائز عیسیٰ اپنے خط میں کیا کچھ کہہ رہے ہیں ، دنیا کے ادارے اداروں او ربالخصوص عدلیہ کے بارے میں کیا لکھ رہے ہیں۔ مجھے عدلیہ کا احترام ہے میں ہمیشہ احترام کرنے والوں میں سے ہوں،مسلم لیگ (ن) عدلیہ کا احترام کرتی ہے ۔ہمیں کہا جاتا ہے کہ ہم نے سپریم کورٹ پر حملہ کیا ، بغیر اجازت داخل ہوئے ،کچھ شیشے اور دروازے ٹوٹے لیکن یہ کہا گیا کہ سپریم کورٹ پر حملہ ہے اور اس پر ایف آئی آر درج ہوئی ، چند دن پہلے سپریم کورٹ کا دروازہ توڑ کر دیواریں پھلانگ کر شیشے توڑ کر اندر داخل ہوا تو یہ کہا گیا کہ ان کے جذبات کا اظہار ہے تو پھر کہہ دیں اس وقت بھی جذبات کا اظہار تھا اور آج بھی جذبات کا اظہار ہے ، اگر اس وقت حملہ تھا تو آج بھی حملہ ہے ، یہ کیسا معیار ہے ۔ شہداء کے بارے میں باتیں کرنے والوں کا دو روز کا ریمانڈ دی اجاتاہے ۔

انہوںنے کہا کہ عمران خان کہتا ہے کہ چیف الیکشن کمیشن میرا مخالف ہے ، میر ے خلاف سازش ہو رہی ہے ،فیصلہ دیا جارہا ہے ۔میں یہ نہیں کہوں گاکہ قرآن پر ہاتھ رکھ کر بات کرو کیونکہ تمہیں قران پاک کی حرمت کا اندازہ نہیں ہے ،تم تو کہتے ہو اگر کوئی میری بات کی تائید نہ کرے تو وہ شرک کرے گا ، میں تو محدود علم رکھنے والا شخص ہوں ، جید علماء کرام قوم کی رہنمائی فرمائیں یہ بندہ کہہ رہا ہے کہ جس نے میری بات کی تائید نہ کی اس نے شرک کیا۔انہوںنے کہا کہ فتنہ فساد کرنے والا سب کچھ کہتا جائے گا اور میری نوجوان نسل کو گمراہ کرے گا ،مجھے انتقام کا نشانہ بنائے عظمی بخاری کو بنائے سیاسی کارکنان کو بنائے ہم برداشت کریں گے انتقام نہیں لیں گے لیکن میرا ملک برباد کرے دین پر انگلیاں اٹھائو یہ برداشت نہیں کریں گے۔

الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد آپ باسٹھ تریسٹھ کے مطابق صادق اور امین نہیں رہا لہٰذا کال کوٹھڑی نہ سہی روشنی والی کوٹھڑی میں جانے کا وقت ہوا چاہتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ آپ با ربار کہہ رہے ہیں انقلاب آزادی کا روڈ میپ دے رہا ہوں تم جن کو گمراہ کر رہے ہو ان کو بتائو یہ کس کا روڈ میپ ہے ؟۔تم کہہ رہے ہوستمبر میں نواز شریف آنے والا ہے ،نواز شریف تو پچھلے دسمبر میں آرہا تھا ، تم اس وقت وزیر اعظم تھے اور کہتے تھے کہ واپسی کا راستہ ہموار کیا جارہا ہے ، بھاری سرمایہ کاری کی جارہی ہے ، وہ بھاری سرمایہ کہا ں سے کی جاتی ہے نام تو لے بہادر بنو ۔ تم کہتے ہو تمہیں بھی نواز شریف کی طرح کر کے کہا جائے گا کہ دونوں الیکشن لڑو ، قوم سے فراڈ نہیں کیا جا سکتا ،نواز شریف اور تمہارا موازنہ بنتا ہی نہیں ، نواز شریف کو دس ہزار تنخواہ نہ لینے پرتا حیات نا اہل کیا گیا ، لیکن کروڑوں کھربوں روپے کھا جانے والے پر ہاتھ تک نہ ڈالا جائے ، یہ نہیں ہو سکتا۔انہوںنے کہا کہ نواز شریف ستمبرمیں قوم کی نمائندگی کے لئے پاکستان آرہے ہیں،نواز شریف کے بغیر لیول پلینگ فیلڈ نہیں کہا جا سکتا،ایک جماعت کے سربراہ کے ہاتھ پائوں باندھ کر دوسرے کی سہولت کاری کی جائے یہ ممکن نہیں ہے ۔ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کے بیس سال بعد تسلیم کیا جارہا ہے اس لئے نواز شریف کے حوالے سے بھی فیصلے قوم کے سامنے آئں گے۔

عدلیہ سے گزارش کرتے ہیں کہ کسی دبائو میں آئے بغیر انصاف کیا جائے ،ہمیں امید ہے کہ ہمارے ساتھ انصاف ہوگا ،ہمیں امید ہے ماضی سے سبق سیکھا جائے گا۔ جس بھنور میں پاکستان پھنسا ہوا ہے تمام سیاسی قوتوں کو لیول پلینگ فیلڈ ملنا اشد ضروری ہے تاکہ ملک آگے بڑھ سکے ۔انہوںنے کہا کہ کیا نواز شریف تین دفعہ کا وزیر اعظم نہیں تھا ، قائد حزب اختلاف نہیں تھا لیکن جسے چرا کر وزیر اعظم لگا دیا جائے اس کے خلاف فیصلہ نہیں آ سکتا اور تین دفعہ کے منتخب وزیر اعظم کے خلا ف بغیرثبوت کے فیصلہ سنا دیا جائے ،پاکستان یونہی چلتا رہے گا،آج کا پاکستان اس کا متحمل ہے ۔

نواز شریف کو تاحیات نا اہل رکھا جائے او رنا اہل اور نالائق چور اور ڈاکو کو ان کے مقاصد پورے کرنے والے کو سر پر بٹھائے رکھیں یہ اب ممکن نہیں ہے ۔ انہوںنے کہا کہ نواز شریف پہلے جیل نہیں گئے ، نواز شریف باہر تھے تو فیصلہ سنایا گیا لیکن وہ اپنی اہلیہ کو بستر مرگ پر چھوڑ کر بیٹی کا ہاتھ تھام کر واپس آئے ،کیا ایسا شخص جیل سے ڈرے گا ۔ہمارے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے ثاقب نثار کے کہنے پر سزا سنائی گئی ، ہم نواز شریف کو جیل نہیںجانے دیں گے۔ ایسا استقبال کریں گے کہ لوگ دیکھیں گے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں