قومی اسمبلی

قومی اسمبلی نے مانع اغراق محصولات (ترمیمی) بل 2022 اور ریلوے (ترمیمی) بل 2022 کی منظوری دیدی

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)قومی اسمبلی نے مانع اغراق محصولات (ترمیمی) بل 2022 اور ریلوے (ترمیمی) بل 2022 کی منظوری دیدی جبکہ وفاقی وزیر برائے بجلی انجینئر خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل اور ڈالر کی قدر میں کمی کی وجہ سے آئندہ ماہ سے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں عوام کو بڑا ریلیف ملے گا۔جمعہ کو قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر تجارت سید نوید قمر نے تحریک پیش کی کہ مانع اغراق محصولات (ترمیمی) بل 2022 کو زیر غور لانے کے لئے مذکورہ قواعد کے قاعدہ 123 کے ذیلی قاعدہ 2 کی مقتضیات موقوف کی جائیں۔

قومی اسمبلی سے تحریک کی منظوری کے بعد وفاقی وزیر سید نوید قمر نے تحریک پیش کی کہ مانع اغراق محصولات (ترمیمی) بل 2022 قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں فی الفور زیر غور لایا جائے۔ ایوان سے تحریک کی منظوری کے بعد سپیکر راجہ پرویز اشرف نے بل کی مختلف شقوں کی یکے یعد دیگرے ایوان سے منظوری حاصل کی جس کے بعد قومی اسمبلی نے بل کی منظوری دے دی۔اجلاس کے دور ان ریلوے (ترمیمی) بل 2022 کی منظوری دی گئی ۔ وزیر مملکت برائے قانون و انصاف شہادت اعوان نے تحریک پیش کی کہ ریلوے ترمیمی بل 2022 زیر غور لانے کے لئے مذکورہ قواعد کے قاعدہ 123 کے ذیلی قاعدہ دو کی مقتضیات موقوف کی جائیں۔ قومی اسمبلی سے تحریک کی منظوری کے بعد وزیر مملکت شہادت اعوان نے تحریک پیش کی کہ ریلوے (ترمیمی) بل 2022 قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کردہ صوت میں فی الفور زیر غور لایا جائے۔ قومی اسمبلی سے تحریک کی منظوری کے بعد سپیکر راجہ پرویز اشرف نے بل کی مختلف شقوں کی یکے یعد دیگرے ایوان سے منظوری حاصل کی جس کے بعد قومی اسمبلی نے بل کی منظوری دیدی۔

اجلاس کے دور ان قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کی مانع اغراق محصولات (ترمیمی) بل 2022 پر رپورٹ پیش کی گئی ۔قائمہ کمیٹی کے رکن اسلم بھوتانی نے کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کی۔اجلا س کے دور ان قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کی طرف سے ریلوے (ترمیمی) بل 2022 پر رپورٹ پیش کی گئی۔ وفاقی وزیر تجارت سید نوید قمر نے کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کی۔ اجلاس کے دور ان قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کی پاکستان رویت ہلال بل 2022 پر رپورٹ ایوان میں پیش کی گئی ایوان سے رپورٹ پیش کرنے میں تاخیر سے صرف نظر کی تحریک کی منظوری کے بعد کمیٹی کی رکن سائرہ بانو نے رپورٹ ایوان میں پیش کی۔اجلا س کے دور ان قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کی اشاعت قرآن پاک (طباعت و ریکارڈنگ کی اغلاط کا خاتمہ) (ترمیمی) بل 2021 پر رپورٹ ایوان میں پیش کردی گئی۔ کمیٹی کی رکن سائرہ بانو نے ایوان سے رپورٹ پیش کرنے میں تاخیر سے صرف نظر کرنے کی تحریک کی منظوری کے بعد رپورٹ ایوان میں پیش کی۔اجلاس کے دور ان تصفیہ تجارتی تنازعات بل 2022 پیش کردیا گیا۔ جمعہ کو وفاقی وزیر تجارت سید نوید قمر نے بل ایوان میں پیش کیا۔اجلاس کے دور ان شہریت پاکستان (ترمیمی) بل 2022 پیش کردیا گیا۔

وزیر مملکت برائے قانون و انصاف شہادت اعوان نے بل ایوان میں پیش کیا۔اجلاس کے دور ان عطائے شہریت (ترمیمی) بل 2022 پیش کردیا گیا۔ وزیر مملکت برائے قانون و انصاف شہادت اعوان نے بل ایوان میں پیش کیا۔اجلاس کے دور ان سیکیورٹیز اور وعدہ بیوپار بازار بل 2022 پیش کردیا گیاوفاقی وزیر خرم دستگیر نے بل ایوان میں پیش کیا۔اجلاس کے دو ران محصولات (ترمیم دوم) آرڈیننس 2022 پیش کردیا گیا۔ وفاقی وزیر خرم دستگیر نے آرڈیننس ایوان میں پیش کیا۔اجلا س کے دور ان سٹیٹ بنک آف پاکستان کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی 2021-22 کی رپورٹ پیش کردی گئی،وفاقی وزیر خرم دستگیر خان نے رپورٹ ایوان میں پیش کی۔اجلاس میں پبلک سروس کمیشن کی سالانہ رپورٹ برائے 2020 پیش کردی گئی،وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے فیڈرل پبلک سروس کمیشن آرڈیننس 1977 کی دفعہ 9 کی ذیلی دفعہ ایک کی مقتضیات کے مطابق فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی سالانہ رپورٹ برائے سال 2020 پیش کی۔

اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پچھلے مہینوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے گرانی آئی تھی جس سے عوام کو تکلیف ہوئی، جون میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اگست میں بجلی کے بلوں میں شامل ہوئی جو 10 روپے تھی، اب تیل کی قیمتوں میں کمی ہوگئی ہے، ڈالر کی قدر میں بھی کمی آئی ہے اس لئے آئندہ ماہ سے بجلی کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں قیمت کم ہوکر دس پیسے ہوگئی ہے، اس سے اگلے ماہ کے بلوں میں واضح ریلیف ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر عوام کو مالیاتی ریلیف فراہم کیا گیا ہے، اس ماہ بجلی کے بلوں میں بھی کمی آئی ہے تاہم اگلے ماہ سے عوام کو واضح ریلیف ملے گا۔ وزیراعظم کی ہدایت پر 200 سے لیکر 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین، کسانوں اور سیلاب زدگان کو ریلیف دینے کیلئے اب تک 65 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ آج ایوان کے اجلاس میں اسلم بھوتانی نے اپنے اور حب کے علاقے میں بجلی کے کارخانوں سے ماحولیاتی نقصان اور مقامی طور پر روزگار کے کچھ ایشوز اٹھائے ہیں، میں اسلم بھوتانی کو یقین دہانی کراتا ہوں کہ آنے والے دنوں میں بجلی کے کارخانوں کے چیفس اور عہدیداران کی ان سے میٹنگ کرائیں گے اور ان کے تحفظات کا ازالہ کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمپنیوں کی جو مقامی ذمہ داریاں ہیں انہیں پورا کرنے کی بھی بھرپور کوشش کی جائے گی۔جی ڈی اے کے پارلیمانی لیڈر غوث بخش مہر نے سیلاب سے ہونے والے نقصان پر قومی اسمبلی میں بحث کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ نکتہ اعتراض پر انہوں نے کہا کہ سیشن کا پہلا دن ہے، سندھ 70 فیصد پانی میں ڈوبا ہوا ہے، سیلابی پانی کی وجہ سے ربیع کی کاشت نہیں ہو سکی اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو قحط سالی کا خدشہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام متاثرین کو اب تک امداد بھی نہیں مل سکی، سیلاب سے ہونے والے نقصان پر ایوان میں بحث ہونی چاہیے۔بعد ازاںقومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی شام پانچ بجے تک کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں