وزیر داخلہ رانا ثنااللہ

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کے وارنٹ گرفتاری واپس لینے کی درخواست عدالت نے اعتراض لگا کر واپس کردی

راولپنڈی (گلف آن لائن)وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کے وارنٹ گرفتاری واپس لینے کی درخواست راولپنڈی کی مقامی عدالت نے اعتراض لگا کر واپس کردی۔وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے معاملے پر مسلم لیگ (ن)لائرز ونگ کی لیگل ٹیم نے درخواست دائر کی۔

راولپنڈی کے سینئر سول جج کی عدالت میں وارنٹ گرفتاری واپس لینے کی درخواست دائر کی گئی جس میں موقف اپنایا گیا کہ رانا ثناء اللہ وزیرداخلہ ہیں جو کہیں بھی جان بوجھ کر روپوش نہیں، تفتیشی رپورٹ میں کہا گیا کہ رانا ثناء اللہ روپوش ہیں جو کہ غلط بیانی ہے۔درخواست میں کہا گیا کہ جاری کردہ وارنٹ میں فیصل آباد کا ایڈریس ہے، رانا ثناء اللہ کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کیے جائیں، فوجداری سیکشن 76 کے تحت عدالت تفتیشی آفیسر کو ضمانتی مچلکے وصول کرنے کا حکم جاری کر سکتی ہے۔مسلم لیگ (ن)کی وکلا ٹیم نے درخواست میں کہا کہ وارنٹ گرفتاری اینٹی کرپشن ٹیم نے غلط بیانی سے حاصل کئے، اس لیے وارنٹ گرفتاری آرڈر واپس لے کر تفتیشی کو ضمانتی مچلکے وصول کرنے کا حکم دیا جائے۔وکلا نے وارنٹ گرفتاری واپس لینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ جاری کردہ وارنٹ گرفتاری منسوخ کر کے مچلکے داخل کرنے کا حکم دے۔درخواست کا جائزہ لینے کے بعد سینئر سول جج نے مسلم لیگ (ن) کی لیگل ٹیم کی درخواست اعتراض کے ساتھ واپس کر دی۔

وزیر داخلہ کے وارنٹ گرفتاری واپس لینے کی درخواست پر اعتراض عائد کرتے ہوئے جج نے ریمارکس دیے کہ میں علاقہ مجسٹریٹ نہیں، سینئر سول جج ہوں، وارنٹ کی منسوخی کا اختیار اینٹی کرپشن کورٹ کو حاصل ہے۔درخواست پر اعتراض عائد کرتے ہوئے عدالت نے لیگل ٹیم کو حکم دیا کہ آپ طریقہ کار کے مطابق ملزم رانا ثنا اللہ کا وکالت نامہ ساتھ لگا کر درخواست دائر کریں جس کے بعد مسلم لیگ (ن) کی وکلا ٹیم عدالت سے واپس روانہ ہو ئی۔واضح رہے کہ گزشتہ روز رانا ثناء اللہ نے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب پر جعل سازی کا الزام عائد کرتے ہوئے اس کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ تھا جبکہ اینٹی کرپشن پنجاب کی درخواست پر راولپنڈی کی سول عدالت نے کرپشن کیس میں وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کو اشتہاری قرار دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔واضح رہے کہ 8 اکتوبر کو راولپنڈی کی سول عدالت نے وزیر داخلہ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔
٭٭٭٭٭

اپنا تبصرہ بھیجیں