قیدیوں کا تبادلہ

روس اور یوکرائن میں108خواتین سمیت 218قیدیوں کا تبادلہ

کیف/ماسکو(گلف آن لائن)روس اور یوکرین کے حکام نے بتایا کہ دونوں ممالک نے پیر کو جنگی قیدیوں کا اب تک کا سب سے بڑا تبادلہ کیا ہے۔ جس میں 108 یوکرینی خواتین سمیت 218 قیدیوں کا تبادلہ کیا گیا۔یوکرین کے صدر کے دفتر کے ڈائریکٹر آندرے یرمک نے بتایا کہ رہائی پانے والی خواتین میں 12 عام شہری بھی شامل ہیں۔انہوں نے ٹیلی گرام پر لکھا کہ یہ پہلا تمام خواتین کا تبادلہ تھا،انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ مئی میں ساحلی شہر ماریوپول میں روسی افواج کی جانب سے ازووسٹل سٹیل کمپلیکس کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد 37 خواتین کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔یرمک نے کہا کہ رہائی پانے والی خواتین میں مائیں اور بیٹیاں بھی شامل ہیں جنہیں ایک ساتھ رکھا گیا تھا۔یرمک کی طرف سے شائع کی گئی تصاویر میں درجنوں خواتین جن میں سے کچھ نے فوجی کوٹ اور وردی پہنی ہوئی ہے سفید بسوں سے اترتی نظر آرہی ہیں۔

یوکرین کے وزیر داخلہ نے کہا کہ آزاد کرائی گئی خواتین میں سے کچھ کو 2019 میں یوکرین کے مشرقی علاقوں میں ماسکو کے اتحادی حکام کی طرف سے حراست میں لینے کے بعد قید کیا گیا تھا۔روسی وزارت دفاع نے اس تبادلے کی تصدیق کی اور کہا کہ ماسکو نے 100 افراد کو بازیاب کرایا ہے جن میں روسی سول بحری جہازوں کے 72 ملاح بھی شامل ہیں جنہیں فروری 2022 میں کیف حکومت نے حراست میں لیا تھا۔روسی وزارت دفاع نے بتایا کہ تبادلے کے معاہدے میں شامل دو یوکرینی باشندوں نے رضاکارانہ طور پر روس میں رہنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے یوکرین واپس جانے سے انکار کر دیا ہے۔دوسری طرف یوکرین کے صدر زیلنسکی نے اپنی افواج پر زور دیا کہ وہ مزید قیدی بنائیں کیونکہ اس سے روس کے پاس اپنے زیر حراست فوجیوں کی رہائی میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ میں ہر اس شخص کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس کامیابی میں حصہ لیا، اور ساتھ ہی ان تمام لوگوں کا بھی شکریہ جنہوں نے ہمارے قیدی تبادلہ کی صلاحیت کو پھر سے بڑھا دیا، ہمارے پاس جتنے زیادہ روسی قیدی ہوں گے اتنا ہی ہم اپنے جوانوں کو رہا کرانے کے قریب ہوجائیں گے۔ یوکرین کے ہر فوجی اور اگلے مورچوں پر موجود ہر کمانڈر کو اس بات کو یاد رکھنا چاہیے۔فروری میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے روس اور یوکرین نے کئی مرتبہ قیدیوں کے تبادلے کیے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں