چین-عرب

چینی صدر کی جانب سے پیش کردہ چین-عرب عملی تعاون کے “آٹھ مشترکہ اقدامات”

ر یا ض (نمائندہ خصوصی) چینی صدر مملکت شی جن پھنگ نے ریاض کے کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر میں منعقد ہونے والی پہلی چین-عرب ریاستوں کی سربراہی کانفرنس میں عملی تعاون کے لیے چین-عرب ممالک کے “آٹھ مشترکہ اقدامات” کی تجویز پیش کی۔ سب سے پہلے ترقی کے لئے مشترکہ کاروائی کی حمایت کرنا ہے. چین عرب ممالک کے ساتھ مل کر 5 ارب یوآن کے ترقیاتی تعاون کے امدادی منصوبوں پر عمل درآمد کا جائزہ لے گا۔

دوسرا، غذائی تحفظ پر مشترکہ کارروائی۔ہفتہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق چین عرب ممالک کے غذائی تحفظ کے معیار کو بڑھانے، عرب ممالک کے ساتھ جدید زراعت پر پانچ مشترکہ تجربہ گاہیں قائم کرنے، زرعی ٹیکنالوجی تعاون کے50 مثالی منصوبوں کو انجام دینے اور 500 زرعی تکنیکی ماہرین کو عرب ممالک بھیجنے میں مدد کرنے کا خواہاں ہے۔ تیسرا صحت عامہ پر مشترکہ کارروائی ہے۔ چوتھا یہ کہ سبز جدت طرازی پر مشترکہ کارروائی کی جائے اور عرب ممالک کو مختلف حوالوں سے 300 جدید ٹیکنالوجیز فراہم کی جائیں۔ پانچواں، توانائی کی سلامتی پر مل کر کام کیا جائے گا اور عرب فریق کے ساتھ توانائی، سائنس اور ٹیکنالوجی کی تحقیق اور ترقی میں تعاون کیا جائے گا ۔ چھٹا، تہذیبوں کے درمیان بات چیت اور مشترکہ کارروائی۔ ساتواں، نوجوانوں کو مل جل کر کام کرنا چاہیے۔

چین، چین-عرب یوتھ ڈیولپمنٹ فورم کا انعقاد کرے گا، عرب ممالک سے 100 نوجوان سائنسدانوں کو سائنسی تحقیقی تبادلوں کے لیے چین مدعو کرے گا، 3,000 نوجوانوں کو چین عرب ثقافتی تبادلوں میں شرکت کی دعوت دے گا، اور 10,000 عرب باصلاحیت افراد کو انسداد غربت ،صحت عامہ اور سبز ترقی سمیت دیگر شعبہ جات میں پیشہ ورانہ تربیت میں شرکت کی دعوت دے گا۔ اور آٹھواں، سلامتی اور استحکام کے لیے مشترکہ کارروائی کی جائے گی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں