چین کی پائیدار ترقی

چین کی پائیدار ترقی کی کامیابیاں بین الاقوامی برادری میں قائدانہ کردار ادا کرتی ہیں، عہدیدار اقوام متحدہ

اقوام متحدہ (نمائندہ خصوصی) چائنا میڈیا گروپ کے خصوصی پروگرام “گلوبل ایکشن انیشی ایٹو – 2022 گلوبل ڈیولپمنٹ ان ایکشن” کا 16 تاریخ کو دوسرا روز تھا ۔ہفتہ کے روز پروگرام میں شریک اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے معززین نے پائیدار ترقی کے میدان میں چین کی کامیابیوں اور چین کے بین الاقوامی کردار کی تعریف کی۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے ایڈمنسٹریٹر اچیم اسٹینر نے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور ماحولیاتی نظام کی بحالی میں چین کی کوششوں کی تعریف کی اور بین الاقوامی برادری میں چین کے قائدانہ کردار کی تصدیق کی۔ اسٹینر نے کہا کہ جب چین حیاتیاتی تنوع کی حفاظت کرتا ہے، ماحولیاتی نظام کو بحال کرتا ہے اور اپنے قومی ترقیاتی منصوبے میں جنگلات کی کٹائی کو روکتا ہے تو اس سے نہ صرف چین کی اپنی پائیدار ترقی میں مدد ملتی ہے، بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی حیاتیاتی تنوع، مخلوقات کے نقصان کی روک تھام اور کاربن کے اخراج میں کمی پر مثبت اثر پڑتا ہے۔

اقوام متحدہ کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل اور اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی گروپ کی چیئرپرسن آمنہ محمد نے خصوصی پروگرام میں غربت کے خاتمے میں چین کی عظیم کامیابیوں کے بارے میں کہا کہ اقوام متحدہ کے ملینیم ڈیولپمنٹ گولز (ایم ڈی جیز) میں غربت کے خاتمے کے ہدف کو حاصل کرنے کی چین کی کامیابیاں قابل تحسین ہیں۔ غربت کا خاتمہ اقوام متحدہ کے 17 پائیدار ترقیاتی اہداف کا پہلا ہدف ہے اور اقوام متحدہ چین کے عملی تجربے کو دنیا بھر میں شیئر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

حیاتیاتی تنوع سے متعلق کنونشن کے سیکریٹریٹ کی ایگزیکٹو سیکریٹری الزبتھ موریما نے اس خصوصی پروگرام میں کہا کہ حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں چین کا موجودہ کام عالمی اوسط سے کہیں زیادہ ہے ۔انہوں نے جائنٹ پانڈا سمیت خطرے سے دوچار جانوروں کے تحفظ میں چین کی کامیابیوں کی تصدیق کی اور کہا کہ چین نے جنگلی حیات کے انتظام اور فطرت کے ذخائر کے قیام میں مثالی کردار ادا کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں