ڈالر

حکومت ڈالر کی غیر قانونی اسمگلنگ ضرور روکے لیکن خوف و ہراس نہ پھیلایا جائے ‘ عثمان اشرف

لاہور(گلف آن لائن)پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین عثمان اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کے ہاتھ سے بنے قالینوں کی برآمدات میںافغانستان سے آنے والے جزوی تیار خام مال کا کلیدی کردار ہے تاہم بہت سی رکاوٹیں حائل ہونے سے شدید مشکلات درپیش ہیں،حالیہ مہینوں میں ڈالر کی قلت کی وجہ سے دستاویزی کاروبار کرنے والوں کو بھی ہراساں کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے خام مال کی جزوی تیاری بھی متاثر ہوئی ہے اور اس کی وجہ سے برآمدات بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے موجودہ حالات کے تناظر میں بلائے گئے ایسوسی ایشن کے ہنگامی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے چیئر پرسن پرویز حنیف، ایسوسی ایشن کے سینئر مرکزی رہنما ریاض احمد، سعید خان ،میجر (ر) اختر نذیر، شاہد حسن، اعجاز الرحمان سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔ عثمان اشرف نے کہا کہ ایسے وقت میں جب پاکستان کو برآمدات بڑھانے کی اشد ضرورت ہے حکومتی ادارے ایسے حالات پیدا کر رہے ہیں جس سے خوف و ہراس کی فضا پروان چڑھ رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سب کے علم میں ہے کہ پاکستان کے ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت کا دارو مدار افغانستان سے آنے والے جزوی تیار خام مال پر ہے لیکن اس کے باوجود خوف و ہراس پھیلایا جارہا ہے ۔

حکومت ڈالر کی غیر قانونی اسمگلنگ کو ضرور روکے لیکن خوف و ہراس نہ پھیلائے ، بے جا رکاوٹوں اور مسابقت کے حالات میسر نہ آنے کی وجہ سے پاکستان کی برآمدات پہلے ہی بر ی طرح متاثر ہو رہی ہیں اور ایسے میں اس طرح کے اقدامات برآمدات کیلئے زہر قاتل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر خزانہ سے اپیل ہے کہ اس کا نوٹس لیا جائے اور اس حوالے سے مینو فیکچررز اور ایکسپورٹرز کو جن مشکلات کا سامنا ہے انہیں دور کرنے کیلئے ذمہ دار افسران کو ذمہ داریاں تفویض کی جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں