امریکہ کی جانب سے بارہا یہ جھوٹ پھیلانا ناقابل قبول ہے کہ چین جنگ میں روس کی حمایت کرتا ہے، چینی نمائندہ

اقوام متحدہ (نمائندہ خصوصی) اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل مندوب گینگ شوانگ نے یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے کے معاملے پر سلامتی کونسل کے جائزے کے دوران کہا کہ امریکی نمائندے نے ایک بار پھر یہ جھوٹ پھیلایا کہ ‘چین جنگ چھیڑنے میں روس کی حمایت کرتا ہے’ جو مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔ہفتہ کے روز گینگ شوانگ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ چین نے یوکرین بحران پیدا نہیں کیا اور نہ ہی وہ اس بحران کا فریق ہے ، چین نے ہمیشہ امن مذاکرات کو فروغ دینے اور سیاسی تصفیے کو آگے بڑھانے کے لیے کوشش کی ہے ۔

چین نے تنازع کے کسی فریق کو مہلک ہتھیار فراہم نہیں کیے اور ہمیشہ فوجی اور شہری دوہرے استعمال کی اشیاء کو سختی سے کنٹرول کیا ہے۔ چین اور روس کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون ڈبلیو ٹی او کے قواعد اور مارکیٹ کے اصولوں کے مطابق ہے، کسی تیسرے فریق کے خلاف نہیں ہے، اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہیں کرتا. درحقیقت جنگ شروع ہونے کے بعد سے امریکہ اور روس کے درمیان تجارت بند نہیں ہوئی ہے۔ ایسے حالات میں امریکہ مسلسل چین اور روس پر معمول کی تجارت کے حوالے سے الزامات عائد کرتا رہا ہے، جو ایک من گھڑت موضوع تخلیق کرنے، تضادات کا رخ موڑنے اور ذمہ داری سے بچنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

گینگ شوانگ نے کہا کہ چین امریکہ پر زور دیتا ہے کہ وہ یوکرین کے معاملے کی آڑ میں چین پر حملہ کرنا اور اسے بدنام کرنا بند کرے اور چینی کمپنیوں پر یکطرفہ پابندیاں اور غیر معقول دباؤ ڈالنا بند کرے۔ چین نے امریکہ پر یہ بھی زور دیا ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے اور جلد از جلد امن کی بحالی کے لیے حقیقی مثبت کوششیں کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں