1

امریکی معیشت کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے ،امریکی ماہرین

واشنگٹن (گلف آن لائن) بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی فچ نے امریکہ کی طویل مدتی غیر ملکی کرنسی جاری کرنے والی ڈیفالٹ ریٹنگ کو ٹرپل اے سے ڈبل اے پلس تک کم کر دیا ہے، 1994 کےبعد سے یہ پہلا موقع ہےکہ فچ نے امریکی کریڈٹ ریٹنگ کو کم کیا ہے۔ متعدد امریکی اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت کی جانب سے بڑھتے ہوئے مالیاتی خسارے اور قرضوں کے مسئلے سے سنجیدگی کے ساتھ نمٹنے میں ناکامی ، معاشی ترقی کو مزید سست کر سکتی ہے۔

اتوار کے روز میڈ یا رپورٹ کے مطا بق
سینٹر فار پالیسی ریسرچ میں اقتصادی پالیسی کے ڈائریکٹر شائی اکابس کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت کے بڑھتے ہوئے قرضے بالآخر ملک کے قرضے لینے کی لاگت کو بڑھا سکتے ہیں اورمعاشی ترقی کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے زیادہ وفاقی ٹیکس آمدن کا استعمال کیا جائے گا جس سے وفاقی حکومت کی سماجی بہبود کے پروگراموں اور معیشت کو ترقی دینے کے کچھ پروگراموں پر خرچ کی صلاحیت کم ہو گی ہے جس کی وجہ سے طویل عرصے میں معاشی ترقی سست ہو سکتی ہے۔

موڈیز اینالٹکس کے چیف ماہر اقتصادیات مارک زنڈی کا کہنا ہے کہ امریکی کریڈٹ ریٹنگ میں کمی کے مالیاتی اثرات طویل مدتی ہوسکتے ہیں۔ اگر امریکی حکومت طویل مدتی قرضوں سے نمٹنے کے لیے پالیسیاں مرتب نہیں کرتی ہے تو ، صارفین کو کریڈٹ کارڈ سے لے کر گاڑیوں تک ہر چیز کے لیے قرض لینے کی بڑھتی ہوئی لاگت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور سرمایہ کاروں کا امریکہ کے اپنے قرضوں کی ادائیگی کا اعتماد بھی کم ہوگا۔

یونیورسٹی آف سٹیٹ آف ایریزونا کے اسکول آف بزنس کے پروفیسر جیفری اسمتھ کا کہنا تھا کہ طویل عرصے میں فچ کی جانب سے امریکی کریڈٹ ریٹنگ میں کمی محض ایک آغاز ہو سکتی ہے۔ امریکی قرضوں کو صرف محصولات کے ذریعے مکمل طور پر ادا نہیں کیا جا سکتا ہے ، امریکی قرضوں کی عدم ادائیگی کا خطرہ زیادہ رہتا ہے جس سے امریکی معیشت کو شدید نقصان پہنچے گا۔

وائس آف امریکہ کی ویب سائٹ نے اپنے ایک تبصرے میں لکھا ہے کہ حالیہ برسوں میں امریکہ کی دونوں سیاسی جماعتوں نے امریکہ کے بڑھتے ہوئے سرکاری قرضوں کے مسئلے کو حل کرنے کے سلسلے میں سخت اقدامات اختیار نہیں کیے ہیں جس کے نتیجے میں امریکی حکومت کے قرضوں کا جی ڈی پی میں تناسب 113 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جو دوسری جنگ عظیم کے اختتام کے بعد ایک ریکارڈ بلندی پر ہے اور یہ تناسب آج بھی بڑھ رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں