رضا ربانی

جب طالبان سرحد کو تسلیم نہیں کرتے تو پاکستان آگے کیوں بڑھ رہا ہے، رضا ربانی

اسلام آباد (گلف آن لائن)سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا ہے کہ طالبان نے افواج پاکستان کو افغان سرحد پر باڑ لگانے سے روک دیا، وہ سرحد کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں تو ہم آگے کیوں بڑھ رہے ہیں،پارلیمنٹ جب تک صحیح جڑ کو پکڑ کر اس کے حل کے لیے کوشاں نہیں ہوگی ایسے واقعات مستقبل میں بھی سامنے آتے رہیں گے

۔چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے رضا ربانی نے کہا کہ پارلیمنٹ جب تک صحیح جڑ کو پکڑ کر اس کے حل کے لیے کوشاں نہیں ہوگی ایسے واقعات مستقبل میں بھی سامنے آتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ جب ریاست کو ضرورت ہو تو پارلیمان کو استعمال کیا جاتا ہے، ہم طالبان کی حمایت تو کر رہے ہیں لیکن کوئی اس پر بات نہیں کرتا کہ افغانستان میں طالبان کی موجودگی پر ریاست کی پالیسی افغانستان کی طرف درست ہے یا نہیں۔سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ کیا وزیر خارجہ ایوان میں آکر بتانا پسند کریں گے کہ افغان سرحد پر باڑ لگانے سے افواج پاکستان کو روک دیا گیا، وہ سرحد کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں تو ہم آگے کیوں بڑھ رہے ہیں، کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے گروپ افغانستان میں دوبارہ فعال ہو رہے ہیں جس سے پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ ہوگا۔ٹی ٹی پی کے ساتھ جنگ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے رضا ربانی نے کہا کہ ریاست کو بتانا ہوگا کہ کن شرائط پر جنگ بندی کی بات کر رہے ہیں، ریاست کے اداروں اور بالخصوص پارلیمنٹ کو جان بوجھ کر غیر فعال بنایا جارہا ہے۔رضا ربانی نے کہا کہ ریاست مزید خفیہ معاہدوں کی متحمل نہیں ہو سکتی، نیشنل ایکشن پلان پر پارلیمنٹ میں دوبارہ بحث کی جائے۔انہوں نے کہا کہ ضیاالحق کی آمریت میں جو لوگ متبادل بیانیے کو جنم دیتے تھے، ریاستی پالیسی کے تحت اس سوچ کو ختم کیا گیا، پاکستان کی ریاست کا مطلب حکومتی اور فوجی بیورکریسی ہے، پارلیمان میں بیٹھے لوگ نہیں ہیں، اپنے سیاسی ایجنڈا کو آگے بڑھانے کے لیے ریاست نے مذہب کا استعمال کیا۔

انہوںنے کہاکہ میری ثقافت عربی ثقافت نہیں ہے، میری ثقافت وادی سندھ کی ثقافت ہے، میں نے ایک ایسے معاشرے میں جنم لیا جہاں ایک استاد کو یونیورسٹی میں آزادی حاصل نہیں ہوتی، عوام کو سیاسی اختلاف کا حق حاصل نہیں، اگر جج اس کے خلاف فیصلہ لکھتا ہے تو ریاست اس کو نشانہ بناتی ہے۔سابق چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ لوگوں کو لاپتا بنادیا جاتا ہے، ریاست انہیں ایسی جگہ چھپا دیتی ہے جہاں ان کا سراغ ملنا مشکل ہوجاتا ہے، انتہا پسند گروپوں نے کراچی، لاہور، پشاور، سوات، مالاکنڈ میں متبادل عدالتیں بنائیں لیکن ریاست خاموش رہی۔ انہوںنے کہاکہ عسکری گروپوں نے ریاست کے حق کو پارہ پارہ کردیا لیکن ریاست خاموش تماشائی بن کر کھڑی رہی، جب ایسی ریاست ہو تو آپ کیسے کہیں گے کہ عسکریت پسندی آگے نہیں بڑھے گی۔
٭٭٭٭٭

اپنا تبصرہ بھیجیں