ہمہ گیر عوامی طرز جمہوریت

چین کی قوت حیات سے بھر پور ہمہ گیر عوامی طرز جمہوریت

بیجنگ (نمائندہ خصوصی)حالیہ دنوں چین کی ہمہ گیر عوامی طرز جمہوریت اندرون و بیرون ملک گرما گرم بحث کا موضوع بن چکی ہے ۔ لوگ جمہوریت اور عوامی جمہوریت کے تصورات کو تو شائد باآسانی سمجھ سکتے ہیں ، لیکن ہمہ گیر عوامی طرز جمہوریت یہ کیا ہے؟ اور اس کی کیسے وضاحت کی جائے ؟ میں آپ کو اپنی ذاتی زندگی سے جڑی ایک کہانی سناؤں گی تاکہ آپ چین کی ہمہ گیر عوامی طرز جمہوریت کو گہرائی سے جان سکیں ۔
میرے والد چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کی قومی کمیٹی کے رکن تھے اور یہ عہدہ سنبھالنے کے بعد وہ ہر سال سی پی پی سی سی کے سالانہ اجلاس میں سفارشات پیش کرتے تھے ۔

سفارشات کی تیاری کے لیے وہ نچلی سطح جیسے ضلع یا گاؤں وغیرہ جاتے، وہاں کے زمینی حقائق بالخصوص مقامی لوگوں کو درپیش مشکلات ،حل طلب مسائل اور درکار وسائل کے بارے میں دریافت کرتے۔ اس کے بعد وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مختلف سطح کے سرکاری اداروں کا دورہ کرتے جہاں ان مسائل کے حل اور نمٹنے کے طریقہ کار اور امکانات پر تبادلہ خیال کیا جاتا اور حقیقی صورتحال کے تناظر میں حل طلب مسائل کے کلیدی نکات پر غور کیا جاتا ۔یوں تمام لازمی امور کو مد نظر رکھ کر مفصل اور جامع سفارشات مرتب کی جاتیں۔

کئی مرتبہ ایسا ہوتا کہ رات کو میری آنکھ کھل جاتی اور میں دیکھتی کہ میرے والد چراغ کی روشنی میں انہی سفارشات کی تیاری میں مصروف ہیں ۔ اجلاس میں شرکت کے دوران انہوں نے اپنی جمہوری جماعت کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ سفارشات پیش کیں اور صحیح معنوں میں عوامی امنگوں کی ترجمانی کی ۔یہ تو صرف ایک چھوٹی سی کہانی ہے جو میں نے خود دیکھی ہے جبکہ چین بھر میں ہزاروں ایسے لوگ ہیں جو میرے والد کی طرح نچلی سطح پر جاتے ہیں اور عوام کو درپیش مشکلات ، مسائل ، مطالبات اور خواہشات کو غور سے سنتے ہیں اور بعد ازاں انہیں تجاویز اور سفارشات کی صورت میں ” دو اجلاسوں ” کے دوران پیش کیا جاتا ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ اُس وقت ہر سال والدصاحب مجھے انتہائی خوشی سے بتاتے کہ اُن کی مرتب کردہ سفارشات کا جواب دیا گیا ہے۔ متعلقہ محکموں سے موصول ہونے والے جوابی خطوط میں سفارشات پر عمل درآمد سے متعلق پیشرفت ، درپیش مشکلات اور اگلے مرحلے کے اقدامات جیسے مواد کا تذکرہ کیا جاتا۔
اب ہم کچھ حالیہ اعداد وشمار پر نگاہ دوڑاتے ہیں ۔دو ہزار اکیس میں ریاستی کونسل کے مختلف محکموں نے “دو اجلاسوں ” کے دوران نمائندوں اور نائبین کی جانب سے پیش کردہ 8666 تجاویز اور 5718سفارشات پر عمل درآمد کیا جو مجموعی تعداد کا بالترتیب 96.4 فیصد اور 93.4 فیصد بنتے ہیں ، یوں دیکھا جا سکتا ہے کہ تمام تجاویز اور سفارشات پر بر وقت عمل درآمد کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ریاستی کونسل کے مختلف محکموں نےتجاویز اور سفارشات کا سنجیدگی سے مطالعہ کیا اور 4300 سے زائد تجاویز اور سفارشات کے عین مطابق 1600 سے زائد پالیسیاں جاری کیں اور لازمی اقدامات اٹھائے گئے جن سے قومی اقتصادی اور سماجی ترقی کے حوالے سے اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دینے میں موئثر اور فعال مدد ملی ہے ۔

چین کے صدر مملکت شی جن پھنگ کا کہنا ہے “چینی طرز جمہوریت کی افادیت چین میں مسلمہ ہے “واقعی چینی عوام ملک کے حقیقی حکمران کی حیثیت سے قومی ترقی کے عمل میں بھرپور انداز سے شریک ہیں ۔ نچلی سطح سے پیش کردہ مطالبات اور درپیش مسائل سمیت سب آوازوں کو موئثر طریقے سے اعلیٰ سطح تک پہنچایا جا تا ہے ، اور ان سے متعلق جوابات بھی دیے جاتے ہیں ۔ یہی قوت حیات سے بھرپور چینی عوامی طرز جمہوریت ہے ۔

ملک بھر کی مختلف سطحوں سے عوامی کانگریس کے نمائندے اور عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کے مندوبین ” دو اجلاسوں ” کے دوران قومی ترقی جیسے اہم معاملات پر تبادلہ خیال کرتے ہیں ، عوام کی رائے اور مطالبات کی عکاسی کرتے ہیں، اور حکومت ان تمام تجاویز اور سفارشات کو پالیسی سازی اور اقدامات میں تبدیل کرتی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ فیصلہ سازی لوگوں کے مفادات اور امنگوں کے عین مطابق ہو ۔ یہی چینی ہمہ گیر عوامی طرز جمہوریت ہے !

اپنا تبصرہ بھیجیں