وزیراعلیٰ سندھ

سندھ اسمبلی کا بجٹ قانونی طریقے سے پاس کرائیں گے ، اسمبلی کے 75 فیصد ارکان بجٹ سے خوش ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

کراچی(گلف آن لائن)وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ اسمبلی کا بجٹ قانونی طریقے سے پاس کرائیں گے ، اسمبلی کے 75 فیصد ارکان بجٹ سے خوش ہیں،ایوان میں شور شرابہ اور گالیاں دینے والے لوگ ملک بھر سے مسترد ہوگئے ہیں، تحریک انصاف کی ہنگامہ آرائی کے طریقے سے اسمبلی نہیں چلنے دیں گے، ہم کوئی نیا ٹیکس لگانے کے بجائے ریلیف دے رہے ہیں، ایک تجویز یہ بھی ہے کہ جمعہ کے روز سرکاری ملازمین سے گھر سے کام لیں۔

بدھ کو سندھ اسمبلی آڈیٹوریم میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب میں وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہاکہ ایک جمہوری طریقے سابق وزیراعظم عمران خان کو گھر بھیجا گیا تاہم وہ ہرروز نئی اور بہکی ہوئی باتیں کرتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف والوں کا عجیب ہی طریقہ ہے اور یہ ڈکٹیٹر والے راستے کو اپنا رہے ہیں،اگر یہ چاہتے ہیں کہ اس طرح ہنگامہ کریں تو ہم تیار کریں۔انہوں نے کہاکہ اس بجٹ کے حق میں 75 فیصد ہائوس کے ارکان ہیں اور اس دفعہ ہم یہ اجازت نہیں دینگے کہ اپوزیشن والے تقریر کریں اور ہمارے ارکان کی تقریر میں شور کریں۔مرادعلی شاہ نے کہا کہ اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سے بھی بات چیت کی جائے گی،بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن کی دیگر جماعتوں ایم کیو ایم ، جی ڈی اے ، ٹی ایل پی کے ارکان خاموشی سے بجٹ سن رہے تھے لیکن تحریک انصاف کو اس صوبے کے لوگوں سے کوئی سروکار نہیں ہے۔وزیراعلی سندھ نے پیشکش کی کہ اب بھی تحریک انصاف کو کھلی دعوت ہے کہ آئیں اور اسمبلی میں بٹھیں،ہم ان کی مکمل بات سنیں گے اور جواب بھی دینگے۔وزیراعلی سندھ نے بجٹ سے متعلق بتایا کہ ہم نے پچھلی سال کی طرح اس مرتبہ بھی کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا اورہم ٹیکس میں ریلیف دے رہے ہیں۔

کاٹن فیس، انٹرٹینمنٹ اور پروفیشنل ٹیکس کم کردیئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس بجٹ میں ریکارڈ ترقیاتی اسکیم رکھی گئی ہیں اوراس اسکیم میں سوشل پروٹیکشن بہت زیادہ خیال رکھا گیا ہے۔انہوں نے بتایا ٹیکسز میں ریلیف دے رہے ہیں اور3 ٹیکسز معاف کیے ہیں۔ آئی ٹی سیکٹر کی ترقی کیلئے ٹیکس13سے کم کرکے 3فیصد کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صحت کیلئے 206ارب روپے رکھے ہیں، 33ارب روپے کا بجٹ خسارہ ہے جبکہ تعلیم کیلئے 30ارب کی گرانٹ دی جارہی ہے۔وزیر اعلی سندھ نے کہاکہ سوشل پروٹیکشن یونٹ کو ڈپارٹمنٹ بنادیا، ایک کھرب 713 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا ہے، بجٹ میں اگلے سال کیلئے ریکارڈ ترقیاتی اسکیمز رکھی گئی ہیں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ سوشل ریلیف کیلئے 15ارب روپے رکھ رہے ہیں، گزشتہ سال کی طرح اس بجٹ میں بھی ٹیکس نہیں لگارہے، بجٹ میں عوام کو ریلیف دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کاٹن فیس، انٹرٹینمنٹ ٹیکس، پروفیشنل ٹیکس ختم کررہے ہیں، آئی ٹی سیکٹر کیلئے ٹیکس 13 فیصد سے کم کر کے 3 فیصد کردیا۔انھوں نے بتایا کہ گزشتہ دور میں وفاقی حکومت نے روڈ سیکٹر کیلیے13ہزار ارب روپے مختص کیے تھے،116ارب روپے ہائی ویز سیکٹر پر وفاق نے خرچ کیے لیکن سندھ میں ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوا۔انھوں نے دعوی کیا کہ سندھ میں پچھلے 3 برس میں پی ٹی آئی نے ایک نئی اسکیم شروع نہیں کی تاہم آئندہ مالی سال میں وفاقی بجٹ میں سندھ کی 7 اسکیمز شامل ہیں۔نوابشاہ سیرانی پور تک مہران ہائی وے کو دو رویہ کرینگے جبکہ گھوٹکی میں ساڑھے چھ ارب روپے کی لاگت سے سڑکوں کی تعمیر ہوگی۔

وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ بجٹ میں ترقیاتی اسکیمز، سوشل پروٹیکشن کا خیال رکھا ہے۔انھوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ سال امید ہے کہ ہم بہتر پرفارم کرسکیں گے کیونکہ پچھلے ساڑھے تین سال میں وفاق نے مدد نہیں کی اور گزشتہ ساڑھے تین سال میں سندھ کے ساتھ زیادتیاں ہوئی تاہم اب وفاقی حکومت کے ساتھ تعلقات قدرے بہترہیں۔

گزشتہ روز سندھ اسمبلی اجلاس میں بجٹ پیش کرنے کے دوران اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایوان میں گزشتہ روز جو کچھ ہوا، وہ سب نے دیکھا۔ اپوزیشن نے حکومتی ارکان کے ساتھ ہاتھا پائی کی اور گالم گلوچ بھی کی۔انہوں نے کہا کہ ایوان میں شور شرابہ اور گالیاں دینے والے لوگ ملک بھر سے مسترد ہوگئے ہیں۔ افسوس ناک واقعہ ہوا کہ اپوزیشن کے لوگ میرے اور اسپیکر کے درمیان آ گئے۔ اپوزیشن جماعتوں نے قائم مقام اسپیکر سے کہا تھاکہ وہ بجٹ تقریر سنیں گے ۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ کل سندھ اسمبلی میں جو کچھ ہوا، اس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہوں ۔
٭٭

اپنا تبصرہ بھیجیں