قیس سعید

سعودی عرب کا تونس کو 50 کروڑ ڈالر قرض اور گرانٹ دینے کا اعلان

ریاض(گلف آن لائن) سعودی عرب تونس کو آسان قرض اور اس کی معیشت کو سہارا دینے کے لیے گرانٹ کی شکل میں 50 کروڑ ڈالر دے گا۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات تونس میں سعودی عرب کے سفیر عبدالعزیز الصقر نے بتائی۔تونس کو دی جانے والی مالی امداد میں 40 کروڑ ڈالر کا آسان قرض اور 10 کروڑ ڈالر کی گرانٹ شامل ہے۔

ان سمجھوتوں پر سعودی عرب کے وزیر خزانہ محمد عبداللہ الجدعان اور ان کے تونسی ہم منصب سہام البوغدیری نے دست خط کیے۔تونس اس وقت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)کے ساتھ ایک ارب 90کروڑ ڈالر کے قرض کی تجویز پر بات چیت کر رہا ہے لیکن یہ مذاکرات اکتوبر سے تعطل کا شکار ہیں کیونکہ تونس کے صدر قیس سعید نے اقتصادی ادارے کی قرض کی شرائط کو مسترد کر دیا تھا۔

ایک سینئر سرکاری عہدہ دار نے جون میں کہا تھا کہ تونس آئی ایم ایف کو پیش کرنے کے لیے ایک متبادل تجویز تیارکر رہا ہے۔صدر قیس سعید نے جون میں پیرس میں ایک اجلاس کے دوران میں آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیفا کو بتایا تھا کہ شمالی افریقی ملک کو مالی مدد مہیاکرنے کے لیے فنڈ کی شرائط سے خانہ جنگی کو جنم دینے کا خطرہ ہے۔

قیس سعید نے جارجیفا کے ساتھ ملاقات میں اس بات کا اعادہ کیا کہ سب سڈی (زرِتلافی)میں کسی بھی قسم کی کٹوتی، خاص طور پر توانائی اور خوراک پر، ملک پر مضر اثرات مرتب کر سکتی ہے۔انھوں نے 1983 میں تونس میں ہونے والے مہلک فسادات کا ذکر کیا جب حکومت نے روٹی کی قیمت میں اضافہ کیا تھا۔قرض کے بغیر تونس کو ادائی کے توازن کے مکمل بحران کا سامنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں