ماسکو(نمائندہ خصوصی) روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ یوکرین کی جانب سے روس میں شہری اہداف اور لاجسٹک تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کے جواب میں روس نے یوکرینی تنصیبات پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں، اور یہ کارروائیاں یوکرینی حملوں کے مقابلے کہیں زیادہ تباہ کن ثابت ہو رہی ہیں۔
روسی ٹیلی ویژن کے صحافی پاول زاروبن کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر پوتن نے کہا کہ کیف حکومت نے روس میں شہری اہداف کو نشانہ بنا کر خود “پنڈورا باکس” کھولا اور اس کے جواب میں یوکرین کی معیشت کے حساس شعبوں کو روسی حملوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ کیف حکومت اور اس کے مغربی سرپرستوں نے بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے 40 دن میں روس کو سٹریٹجک شکست دینے کی کوشش کی، ان حملوں میں روس کے شہری اہداف اور لاجسٹک راستوں کو نشانہ بنایا گیا۔
روسی صدر نے کہا کہ ان حملوں کا مقصد روسی معیشت کے مختلف شعبوں کو نقصان پہنچانا، عوامی اتحاد کو کمزور کرنا اور بالآخر روس کو عدم استحکام سے دوچار کرنا تھا، مگر کیف اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ روس اپنی سرزمین اور لاجسٹک انفراسٹرکچر پر ہونے والے حملوں کا جواب دیتا رہے گا، اگر روسی لاجسٹکس کو متاثر کرنے کی کوشش کی جائے گی تو جوابی اقدامات میں بھی تاخیر نہیں ہوگی۔
صدر پوتن نے کہا کہ روس نے یوکرین کے اقدامات کے جواب میں ان تنصیبات کو نشانہ بنانا شروع کیا جو شہری پیداواری مراکز اور لاجسٹک نیٹ ورک سے متعلق کارروائیوں میں استعمال ہو رہی ہیں، روسی مسلح افواج کی جوابی کارروائیاں زیادہ تکلیف دہ اور تباہ کن ہیں۔
یوکرین کی زرعی برآمدات اور لاجسٹک مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گندم یوکرین کی اہم برآمدات میں شامل ہے، تاہم روسی جوابی حملوں سے پیدا ہونے والی لاجسٹک مشکلات کے باوجود عالمی منڈی میں اناج کی قلت پیدا ہونے کا امکان نہیں، روس کے پاس کم از کم 60 ملین ٹن زرعی مصنوعات کی برآمدی صلاحیت موجود ہے۔
پوتن نے کہا کہ یوکرین میں اہداف پر روسی حملوں کے میدان جنگ پر بھی براہ راست اثرات مرتب ہو رہے ہیں، ان کارروائیوں سے یوکرینی افواج کو فوجی سازوسامان اور گولہ بارود پہنچانے، محاذ پر اہلکاروں کی تبدیلی اور دفاعی صنعت کی پیداواری صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔
روسی صدر نے دعویٰ کیا کہ یوکرینی حملے میدان جنگ کی صورتحال تبدیل کرنے میں ناکام رہے ہیں اور روسی افواج مختلف سمتوں میں پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں، روسی فوج نے اپنی پیش قدمی کی رفتار بھی تیز کی ہے اور خصوصی فوجی آپریشن کے اہداف کے حصول تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ روس کی جوابی کارروائیوں کے بعد کیف اب ثالث ممالک کے ذریعے صورتحال سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے، یوکرینی قیادت ممکنہ سنگین نتائج سے بچنے کیلئے مختلف تجاویز پیش کر رہی ہے۔
پوتن نے کیف کی جانب سے موصول ہونے والی حالیہ تجاویز کو “غیر معمولی” اور ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس مذاکرات کیلئے ہمیشہ تیار ہے، تاہم بات چیت زمینی حقائق کی بنیاد پر ہی ہو سکتی ہے، اس مرحلے پر ممکنہ معاہدوں کی شرائط کے بارے میں قیاس آرائی کرنا قبل از وقت ہوگا۔
انہوں نے روس میں شہریوں اور شہری انفراسٹرکچر پر حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انسانی جانوں کا ضیاع ہمیشہ ایک المیہ ہوتا ہے، خواہ وہ کسی خاندان، دوستوں یا پورے ملک کیلئے ہو۔
صدر پوتن نے روس کے فضائی دفاعی نظام کو مزید بہتر بنانے، سکیورٹی اداروں اور سول انتظامیہ کے درمیان رابطہ مضبوط کرنے اور سرکاری و نجی اداروں کو اس عمل میں شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ یوکرین ستمبر میں ہونے والے سٹیٹ ڈوما انتخابات سے قبل روسی عوام کو خوفزدہ کرنے اور انتخابی عمل میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے، روس ایسی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دے گا۔
پوتن نے مزید کہا کہ روسی معاشرے پر نفسیاتی دباؤ ڈالنے اور عوام کو خوفزدہ کرنے کی کوشش ناکام ہوگی اور روس اپنی ریاستی بنیادوں اور حکومتی اداروں کی قانونی حیثیت کو مزید مضبوط کرتا رہے گا۔



