لاہور (نمائندہ خصوصی)امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے وطن واپس پہنچنے کے بعد حکومت کو چاہیے کہ پٹرولیم لیوی کے حوالے سے جماعت اسلامی کے مطالبات کو سنجیدگی سے تسلیم کرے اور عوام کو فوری اور عملی ریلیف فراہم کرے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور مختلف ٹیکسز و لیویز کے ذریعے عوام پر مسلسل اضافی بوجھ ڈالا جا رہا ہے، جس کے باعث عام آدمی کے لیے روزمرہ زندگی گزارنا مشکل سے مشکل تر ہو چکا ہے۔
انہوں نے میڈیا کو جاری کر دہ اپنے بیان میںکہا کہ پٹرولیم لیوی کے نام پر عوام سے مسلسل رقم وصول کی جا رہی ہے، جبکہ دوسری جانب حکمران طبقے کے شاہانہ اخراجات اور غیر ضروری مراعات کا سلسلہ جاری ہے۔ عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری، لاقانونیت اور معاشی بدحالی کا شکار ہیں، ایسے حالات میں ان پر مزید مالی بوجھ ڈالنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔انہوں نے کہا کہ جما عت اسلامی گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے پٹرولیم لیوی اور عوامی مسائل کے خلاف ملک بھر میں احتجاج، دھرنوں اور عوامی رابطہ مہم کے ذریعے اپنی آواز بلند کر رہی ہے۔
ان احتجاجی سرگرمیوں میں بڑی تعداد میں عوام کی شرکت اس بات کا اظہار ہے کہ عام شہری موجودہ مہنگائی اور معاشی پالیسیوں سے شدید متاثر ہیں اور انہیں فوری ریلیف کی ضرورت ہے۔امیر جماعت اسلامی پنجاب نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ پٹرولیم لیوی سمیت ان تمام اقدامات پر نظرثانی کرے جو براہِ راست عوام کی جیب پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ اسی طرح آئی پی پیز کے معاہدوں کا بھی ازسرنو جائزہ لیا جائے اور ایسے معاہدوں میں عوامی مفاد کو بنیادی ترجیح دی جائے جن کا بوجھ بالآخر بجلی کے بلوں اور قومی خزانے کے ذریعے عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔محمد جاوید قصوری نے کہا کہ ملک میں ایسا نظام مزید نہیں چل سکتا جس میں عام آدمی مسلسل قربانیاں دے جبکہ حکمران طبقے کے اخراجات کم نہ ہوں۔
حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کے لیے ٹھوس اور مؤثر اقدامات کرے اور معیشت کو عوام دوست بنیادوں پر استوار کرے۔ امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی عوام کی آواز کو مؤثر انداز میں اجاگر کر رہی ہے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ ہماری جدوجہد کا بنیادی مقصد حکمرانوں سے عوام کے لئے ریلیف کا حصول ہے۔حکومت کو مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے۔



