نور مقدم قتل

ملزم ظاہر جعفر کے والدین نے ضمانت کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا

اسلام آباد (گلف آن لائن)ملزم ظاہر جعفر کے والدین نے ضمانت کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا۔ذاکر جعفر اور والدہ عصمت ذاکر نے اپنے وکیل خواجہ حارث کے ذریعے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں خارج کر دی تھی۔

درخوراست میں کہاگیاکہ کیس کا مکمل چالان بھی ابھی تک ٹرائل کورٹ میں پیش نہیں ہوا، دو ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کی ہدایت دیکر ہائیکورٹ نے دائر اختیار سے تجاوز کیا، دو ماہ میں فیصے کا حکم ملزمان کے حقوق اور شفاف ٹرائل کے اصولوں کیخلاف ہے۔ درخواست میں کہاگیاکہ جلد بازی میں ٹرائل مکمل کرنے کے حکم سے ملزمان کا حق دفاع متاثر ہوگا، پولیس تحقیقات یکطرفہ اور جانبداری پر مبنی ہیں۔

درخواست میں کہاگیاکہ ملزمان جیل میں رہ کر کیس میں اپنا دفاع بھی درست انداز میں نہیں کر سکیں گے، جیل میں رہ کر ملزمان کا اپنے وکلاء کیساتھ رابطہ بھی بہت مشکل ہوتا ہے، کیا واقعہ کی اطلاع نہ دینا اعانت جرم میں آتا ہے؟ ۔درخواست میں کہاگیاکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 107 کا غلط جائزہ لیا، عصمت ذاکراور ذاکر جعفر سے قتل کی وجہ عناد بھی منصوب نہیں کی گئی، ایسے شواہد موجود نہیں کہ والدین کو بیٹے کے قتل کے ارادوں کا معلوم ہو، کسی شریک ملزم کے بیان پر درخواست ضمانت خارج نہیں کی جا سکتی۔موقف اختیار کیاگیاکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلہ میں سقم ہیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیکر ضمانت منظور کی جائے۔خواجہ حارث نے دونوں ملزمان کی الگ الگ ضمانت درخواستیں دائر کیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں