اسلام آباد (گلف آن لائن)مارگلہ پہاڑی پر تجاوزات اور نِجی ہوٹل کے لِیز معاہدہ کیس میں تحریری حکمنامہ جاری میں ہائیکورٹ نے مارگلہ نیشنل پارک کی حدود میں ہوٹل کے ساتھ لیز ایگریمنٹ پر سوال اٹھا دئیے۔
عدالت نے تحریری حکم نامے میں کہاکہ ہوٹل کا وکیل عدالت کو مطمئن نہ کر سکا کہ ان کا فارمز ڈائریکٹوریٹ کے ساتھ معاہدہ قانونی درست ہے۔ ہائی کورٹ نے سوال اٹھایاکہ ہوٹل کے فارمز ڈائریکٹوریٹ کے ساتھ لیز ایگریمنٹ کی قانونی حیثیت کیا ہے ؟ بادی النظر میں سی ڈی اے نیشنل پارک ایریا میں کسی تعمیر یا لِیز کی اجازت نہیں دے سکتا ۔ہائیکورٹ نے کہاکہ بادی النظر میں فارمز ڈائریکٹوریٹ بھی بظاہر قانونی طور پر ریاستی پراپرٹی کی ملکیت نہیں رکھ سکتا، ڈائریکٹوریٹ وضاحت کرے کیوں نہ لیز سے حاصل رینٹ ٹرائل کورٹ واپس جمع کرانے کا حکم دیا جائے؟ ۔ اہم قانونی نقطے پر معاونت کے لیے اٹارنی جنرل 9 نومبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ طلب کرلیاگیا ۔
عدالت نے کہاکہ سیکرٹری داخلہ ،سی ڈی اے اور اسلام آباد وائلڈ لائف بورڈ مجاز افسر نامزد کریں، وضاحت کریں کس اتھارٹی کے تحت فارمز ڈائریکٹوریٹ کو ہوٹل کے درمیان لیز ایگریمنٹ کرنے کی اجازت دی؟ ۔ عدالت نے کہاکہ ری ماونٹ ویٹرنری اینڈ فارمز ڈائریکٹوریٹ کا اسٹیسٹس کیا ہے ؟ اٹارنی جنرل معاونت کریں، کیا یہ ڈائریکٹویٹ قانونی طور پر کسی اسٹیٹ لینڈ کی ملکیت لے سکتا ہے ؟ ۔
عدالت نے کہاکہ کیا فارمز ڈائریکٹوریٹ نیشنل پارک کے ایریا میں اس لینڈ کو قانونی طور پر مینج کر سکتا ہے ؟ 31 اگست کو لیز ایگریمنٹ ختم ہونے سے قبل ہوٹل نے فارمز ڈائریکٹوریٹ کے ساتھ نیا ایگریمنٹ کر لیا ،بادی النظر میں فارمز ڈائریکٹوریٹ آرٹیکل 173 اور ملٹری لینڈ مینول کے تحت ریاستی پراپرٹی کی ملکیت نہیں لے سکتا، سی ڈی اے اور وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ نیشنل پارک کی حدود میں غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی کرے ۔



