پرویزالٰہی

شہباز شریف کہتے تھے آصف زرداری کو گھسیٹوں گا ،آصف زرداری نے ہی ان کو ایسی جگہ لا کر کھڑا کر دیا ‘پرویزالٰہی

لاہور(گلف آن لائن)سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ شہباز شریف کہتے تھے کہ میں آصف علی زرداری کو گھسیٹوں گا جبکہ اب آصف زرداری نے ہی ان کو ایسی جگہ لا کر کھڑا کر دیا ہے کہ یہ لاوارث ہو گئے ہیں،ابھی تو حمزہ شہباز نے بجٹ بھی پیش کرنا ہے جس کے لیے انہیں بندے پورے کرنے کی ضرورت پڑے گی جو ان کے پاس نہیں،اس لیے اخلاقی طور پر انہیں چاہیے کہ وہ پیچھے ہٹ جائیں،ہماری جماعت میںکوئی اختلاف نہیں جو پارٹی فیصلہ کرے گی ویسا ہی ہو گا اور ہم آپس میں بیٹھ کر معاملات حل کر لیں گے، ہم کسی پارٹی میں شمولیت اختیار نہیں کر رہے اور نہ ہی کوئی کہیں جا رہا ہے۔

بی بی سی کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ میری شجاعت حسین سے بات ہوئی ہے اور انہوں نے یہ کہا ہے کہ وہ کوئی ایسا فیصلہ نہیں کریں گے جو مناسب نہ ہو۔انہوںنے کہاکہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ جس کا جو دل کرے وہ اپنی مرضی سے فیصلہ کرے۔پرویز الٰہی نے کہا کہ شہباز شریف نے شجاعت حسین کے چھوٹے بیٹے شافع کو مشیر برائے وزیر اعظم لگانے کی جھوٹی امید دلوائی ہوئی ہے اسی لیے یہ ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیںانہیںیہ نہیں معلوم کہ وہاں سے انھیں کچھ نہیں ملنا۔انہوںنے پارٹی صدر کے بیٹے سالک حسین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسے چکوال سے میں نے سیٹ نکلوا کر دی جبکہ اب ان کے حلقے والے انہیںڈھونڈتے ہیں کہ وہ جیتنے کے بعد کہاں گئے۔

پارٹی میں اختلافات کی خبروں پر پرویزالٰہی نے موجودہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کیونکہ اس حکومت کے پاس لوگوں کو دکھانے کے لیے کچھ نہیں تو اسی لیے ہماری پارٹی کے دو بندوں کو لے کر باتیں بناتے ہیں،یہ جو بھی کر لیں ان کی سیاست ہمارے گرد ہی گھومتی ہے،ہمیں کہا جاتا ہے کہ دس سیٹوں کی پارٹی بلیک میل کرتی ہے جبکہ پاکستان کی سیاست ہماری پارٹی کی سیاست کے گرد ہی گھوم رہی ہے۔

عزت دینے والی ذات اللہ کی ہے، جن کے پاس 170 سیٹیں تھیں وہ ادھر ادھر پھر رہے ہیں جبکہ چند سیٹیں ہونے کے باوجود لوگ ہمارے پاس آتے ہیں۔انہوںنے وزیر اعظم شہباز شریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کہتے تھا کہ میں آصف علی زرداری کو گھسیٹوں گا جبکہ اب آصف زرداری نے ہی ان کو ایسی جگہ لا کر کھڑا کر دیا ہے کہ یہ لاوارث ہو گئے ہیں۔اس سوال کہ آصف زردای نے مسلم لیگ (ن) کو منا لیا ہے کہ آپ کو پنجاب میں بطور سپیکر پنجاب اسمبلی ہی کام کرنے دیا جائے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسا کچھ نہیں کیونکہ یہ لوگ تو پہلے ہی میرے خلاف تحریک عدم اعتماد لا چکے ہیں جو ناکام ہوئی اس لیے اس سب کا اب کوئی فائدہ نہیں۔کسی اور جماعت میں جانے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ آپ کے علاقے کے لوگ اس جماعت کو قبول بھی کریں جبکہ ہمارے حلقوں میں لوگ مسلم لیگ (ن)کا نام تک سننا پسند نہیں کرتے۔ہمارا پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کرنے کا مقصد بھی یہی تھا کہ ہمارے لوگوں میں اس جماعت کے لیے کچھ قبولیت نظر آتی ہے۔

جتنی دیر مسلم لیگ (ن)کی حکومت رہی ہمارے علاقے میں ایک بھی کام نہیں ہوا جبکہ ہمارے حکومت میں آتے ہی لوگوں نے واضع فرق دیکھا کہ ہم نے آتے ہی علاقے کے حالات درست کیے۔عمران خان کے خلاف باتیں کرنے کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم تو کھل کر کہتے ہیں کہ یہ غلط ہے اسے ٹھیک کر لو، ہم اتحادی ہیں ان کے کوئی غلام تو نہیں کہ غلط کو بھی صحیح کہہ دیں۔

2018 سے پہلے تک تو عمران خان شوقیا طور پر سیاست کر رہے تھے اور پھر تھوڑے سے مارجن سے اتحادیوں کی مدد سے انہوںنے وفاق اور پنجاب میں حکومت بنائی۔پرویز الٰہی نے کہا کہ ملکی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کے بغیر چیزیں آگے نہیں چل سکتی ہیں،سیاسی جماعتیں کہتی تو ہیں کہ وہ دخل نہ دیں لیکن جب تک وہ سب کو مل کر بٹھائیں گے نہیں تو چیئرمین نیب یا الیکشن کمشنر کیسے اور کون لگائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں