اسلام آباد (گلف آن لائن)چھ ستمبر 1965کے دن ہمارے فوجی جوانوں نے بہادری سے دشمن کے پاک دھرتی پر قابض ہونے کے خواب کو چکنا چور کیا،دھرتی کے بیٹوں نے جرات اور شجاعت کی ایسی دستانیں رقم کیں کہ نہ صرف دشمن کا لاہور میں ناشتہ کرنے کا خواب ناکام ہوا بلکہ دم دبا کر واپس بھاگنا پڑا۔
تفصیلات کے مطابق چھ ستمبر 1965کو مکار دشمن بھارت نے مادر وطن پر لاہور اور قصور پر رات گئے چڑھائی کی،دشمن فوج نے پوری تیاری اور طاقت سے حملہ کیا تاہم افرادی قوت اور ہتھیاروں میں دشمن سے کئی گنا کم ہونے کے باوجود جذبہ حب الوطنی سے سرشار مسلح افواج کے جوانوں اور قوم کے سپوتوں نے دفاع وطن کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دی۔چونڈہ کے مقام پر دوسری عالمی جنگ کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی ہوئی جس میں پاک فوج کے جوانوں نے اپنے جسمون سے بم باندھ کر دشمن کے ٹینکوں کے پڑخچے اڑائے۔
پاک فضائیہ کے پائلٹ ایم ایم عالم نے ایک منٹ میں بھارتی فضائیہ کے پانچ لڑاکا طیاروں کو ہوا میں تباہ کیا جو ایک عالمی رکارڈ ہے۔سات ستمبر کو سترہ پنجاب رجمنٹ کے میجرعزیز بھٹی نے اپنے جوانوں کے ہمراہ برکی سیکٹر میں بی آربی کینال پر دشمن کے حملے کو محدود وسائل کے باجود ناکام بنایا،میجر عزیز بھٹی نے ہمت و بہادری کے ساتھ اگلے محاذ پر دشمن کا مقابلہ کیا،انکی جرات اور بہادری کے اعتراف میں انہیں ملک کے سب سے بڑے فوجی اعزاز نشان حیدر سے نوازا گیا۔1965 کی جنگ کی فتح دشمن کا ایک واضح پیغام ہے کہ اس پاک دھرتی کی جانب اٹھنے والی ہر میلی آنکھ کو نکال دیا جائے گا۔



