سارہ قتل کیس

سارہ قتل کیس،مرکزی ملزم شاہنواز کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 3 روز کی توسیع

اسلام آباد(گلف آن لائن)اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ انعام قتل کیس کے مرکزی ملزم شاہنواز عامر کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 3 روز کی توسیع کردی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق شاہنواز عامر کو 23 ستمبر کو اپنی بیوی کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، یہ واقعہ شہزاد ٹائون میں واقع ایک فارم ہائوس میں پیش آیا تھا جہاں ملزم اپنی والدہ ثمینہ شاہ کے ہمراہ رہائش پذیر تھا۔سماعت کے دوران پولیس نے مرکزی ملزم کو سینئر سول جج محمد عامر عزیز کی عدالت میں پیش کیا جہاں شاہنواز عامر کے جسمانی ریمانڈ میں 3 روز کی توسیع کی استدعا کی گئی۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ سارہ انعام کا پاسپورٹ ابھی تک برآمد نہیں ہوا ہے، یہ اہم چیز ہے، مقتولہ کا پاسپورٹ ان کے سفر کی تاریخوں کے حوالے سے تفصیلات فراہم کریگا۔بعد ازاں جج نے شاہنواز عامر کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 3 روز کی توسیع کردی۔دریں اثنا اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے شاہنواز عامر کی والدہ ثمینہ شاہ کی عبوری ضمانت میں 7 اکتوبر تک توسیع کردی۔کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج شیخ سہیل نے کی، دوران سماعت سارہ انعام کے والد انجینئر انعام الرحیم کی جانب سے وکیل را عبدالرحیم نے کہا کہ مقتولہ کے اہل خانہ نے کہا ہے کہ وہ اس کیس میں کسی بے گناہ کو ملوث نہیں کرنا چاہتے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ مقتولہ کے اہل خانہ کو مزید وقت دیا جائے، وہ اپنے دفاع میں جو لانا چاہتے ہیں لے آئیں، میں نے بھی اس حوالے سے کچھ شواہد دیکھنے ہیں۔بعد ازاں عدالت نے ثمینہ شاہ کی عبوری ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے سارا انعام کے اہل خانہ کے وکیل کی استدعا پر سماعت 7 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ ثمینہ شاہ کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 109 کے تحت قتل کے مقدمے میں شریک ملزم کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔خیال رہے کہ اسلام آباد پولیس نے 23 ستمبر کو معروف صحافی ایاز امیر کے بیٹے شاہنواز عامر کو اپنی کینیڈین شہری بیوی کو مبینہ طور پر قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا جس کے ایک روز بعد اس کیس میں ایاز امیر کو بھی گرفتار کرلیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ 22 ستمبر کی رات کسی تنازع پر جوڑے کے درمیان سخت جھگڑا ہوا تھا، بعد ازاں جمعہ کی صبح دونوں میں دوبارہ جھگڑا ہوا جس کے دوران ملزم نے خاتون کو تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر سر پر ڈمبل مارا اس کے نتیجے میں خاتون کو گہرا زخم آیا اور وہ بیہوش ہوکر فرش پر گر گئیں، تاحال اس بات کا تعین نہیں ہوسکا کہ خاتون کی موت سر پر چوٹ لگنے سے ہوئی یا ڈوبنے سے ہوئی کیونکہ سر پر چوٹ کے بعد وہ باتھ ٹب میں گری تھیں اور ملزم نے پانی کا نل کھول دیا تھا۔

27ستمبر کو اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ انعام کے قتل کیس میں ثبوتوں کی عدم موجودگی کے باعث ایاز امیر کو مقدمے سے بری کر دیا تھا تاہم عدالت نے پولیس کو ہدایت کی تھی کہ اگر کیس سے متعلق ایاز امیر کے خلاف کوئی ثبوت ملتا ہے تو عدالت سے اجازت لینے کے بعد انہیں گرفتار کیا جاسکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں