محمد جاوید قصوری

غزہ میں اسرائیلی مظالم کے خلاف ،عالمی برادری کا کردار مایوس کن ہے’ جاوید قصوری

لاہور (نمائندہ خصوصی)امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے 7 اکتوبر کے سانحہ اور غزہ میں جاری انسانی المیے کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ فلسطین خصوصاً غزہ میں ظلم و ستم اور بربریت کی انتہا ہو چکی ہے۔ لاکھوں بے گناہ فلسطینیوں، خواتین اور معصوم بچوں کی شہادت نے پوری انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، جبکہ عالمی برادری کی جانب سے مؤثر اور مستقل اقدامات کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ میں مسلسل فوجی کارروائیوں، تباہی، نقل مکانی اور بنیادی انسانی ضروریات کی شدید قلت نے ایک سنگین انسانی بحران پیدا کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹس کے مطابق غزہ میں شہریوں کو خوراک، صحت، پانی، رہائش اور دیگر بنیادی سہولیات کی شدید کمی کا سامنا ہے، جبکہ متعدد علاقوں میں تباہ شدہ عمارتیں اور غیر محفوظ رہائشی مقامات شہریوں کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔محمد جاوید قصوری نے کہا کہ معصوم بچوں، خواتین اور عام شہریوں کی جانوں کا تحفظ عالمی برادری کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے بھی غزہ میں ملبے سے انسانی باقیات کی دریافت اور ممکنہ سنگین بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اور امت مسلمہ اہلِ غزہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ مسلم حکمرانوں کو اب محض بیانات اور مذمتی قراردادوں سے آگے بڑھ کر عملی اور سفارتی اقدامات کرنا ہوں گے۔ اسرائیل پر جنگ بندی اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کے لیے عالمی سطح پر دباؤ بڑھایا جائے اور فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کے لیے بھرپور آواز بلند کی جائے۔ عالمی اداروں کو غزہ میں ہونے والی مبینہ جنگی جرائم اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر نیتن ہاہو کے خلاف کارروائی کی جائے ۔

انہوں نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ صرف کسی ایک خطے یا قوم کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق، انصاف اور عالمی قانون کا مسئلہ ہے۔ دنیا کو دوہرے معیار سے بالاتر ہو کر فلسطینی شہریوں کے تحفظ اور پائیدار امن کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔محمد جاوید قصوری نے مطالبہ کیا کہ غزہ کے عوام کو فوری اور بلا رکاوٹ انسانی امداد فراہم کی جائے، شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق اور دیرپا امن کے لیے سنجیدہ عالمی سفارتی کوششیں تیز کی جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں