لاہور(نمائندہ خصوصی)ملک بھر میں ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی نہ آسکی، سرکاری نرخ اور مارکیٹ میں فروخت ہونے والی قیمت کے درمیان تقریبا ً300 روپے فی کلو کا فرق برقرار ہے۔تفصیلات کے مطابق ایل پی جی کا بحران سنگین صورتحال اختیار کر نے لگا، سرکاری قیمت سے کہیں زیادہ نرخوں پر فروخت کے باعث عوام مالی مشکلات کا شکار ہیں جبکہ دکاندار بھی پریشانی سے دوچار ہیں،ایل پی جی امپورٹرز ایسوسی ایشن نے سکیورٹی خدشات اور سرحدی راستوں کی بندش کے باعث نومبر میں قیمتوں میں مزید اضافے اور سپلائی متاثر ہونے کے خدشات سے حکومت کو آگاہ کردیا ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق ایران سے تفتان بارڈر کے راستے ایل پی جی کی ترسیل جاری ہے تاہم بلوچستان میں سکیورٹی خدشات کے باعث ایل پی جی بازرز کی آمد میں تاخیر ہورہی ہے،پہلے بازر تین سے چار روز میں پہنچتے تھے جبکہ اب انہیں منزل تک پہنچنے میں 10 سے 12 روز لگ رہے ہیں جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض عناصر من مانی قیمتوں پر گیس فروخت کررہے ہیں۔ایل پی جی امپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین شیخ مکرم وحید نے بتایا کہ سکیورٹی اور سپلائی متاثر ہونے کے خدشات سے حکومت کو کئی ماہ سے آگاہ کیا جا رہا ہے، اوگرا حکام سے مذاکرات اور تحریری طور پر بھی مسائل کی نشاندہی کی گئی تاہم تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی، حکومت سے مطالبہ ہے کہ ایل پی جی کی ترسیل کے لیے مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے۔
دوسری جانب ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن نے بھی اوگرا اور سول ڈیفنس کے چھاپوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے دو روزہ علامتی ہڑتال کے ذریعے حکومت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے کہا کہ پلانٹ مالکان کے خلاف کارروائی کی جائے، دکانداروں کو مہنگی گیس ملے گی تو وہ سستی کیسے فروخت کرسکتے ہیں، ایک طرف جرمانے کیے جارہے ہیں تو دوسری جانب ایل پی جی پمپس بھی اٹھا لیے جاتے ہیں ادھر ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے نے رکشہ ڈرائیوروں کی مشکلات بھی بڑھا دی ہیں۔ رکشہ ڈرائیور عدنان سمیع خان نے بتایاکہ اب اتنے پیسے بھی نہیں ہوتے کہ پورا ایک کلو ایل پی جی ڈلوا سکیں، کبھی 200 تو کبھی 300 روپے کی گیس ڈلوانا پڑتی ہے، ساری کمائی گیس پر خرچ ہوجاتی ہے۔
انہوںنے کہاکہ ٹریفک پولیس روزانہ ہزاروں روپے کے چالان کررہی ہے، دو وقت کی روٹی پوری کرنا مشکل ہوگیا ہے، صبح ناشتے کے بغیر گھر سے نکلتے ہیں اور اب فاقوں کی نوبت آگئی ہے۔ سواری ملتی نہیں اور اگر مل جائے تو کرایہ بھی پورا نہیں دیتی۔ ایل پی جی مہنگی ہونے سے دیگر اشیا کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے اور غیر سرکاری نرخوں پر فروخت کے باعث عوام پریشان ہیں جبکہ اوگرا اور وزارت پٹرولیم کے حکام کی جانب سے تاحال اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے مثر اقدامات سامنے نہیں آسکے۔



