لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائیکورٹ کا پولیس کی ناقص کارکردگی پر اظہارِ ناراضگی

لاہور (نمائندہ خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کیس میں ڈی پی او شیخوپورہ بلال ظفر شیخ کی پیشی کے موقع پر پولیس کی کارکردگی پر اظہارِ ناراضگی کرتے ہوئے انہیں آئندہ محتاط رہنے کی وارننگ دی اور درخواست نمٹا دی۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نے شہری سید ظہیر حسین شاہ کی درخواست پر سماعت کی۔ ڈی پی او شیخوپورہ پنجاب حکومت کے لا افسران کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ لاء افسران نے پولیس کی جانب سے رپورٹ بھی پیش کی۔دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ڈی پی او سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے دیکھا کہ گزشتہ روز جواب کس طرح فائل کیا گیا تھا؟ ۔

اس پر ڈی پی او شیخوپورہ نے عدالت کو بتایا کہ متعلقہ ذمہ دار افسر کے خلاف محکمانہ کارروائی کی گئی ہے۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیئے کہ ایسے جواب جمع کروائے جاتے ہیں، یہ تو بتیاں بنا کر لاتے تھے۔ ڈی پی او نے موقف اختیار کیا کہ متعلقہ افسران کو پوری تیاری اور مکمل جواب کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایات دی گئی ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ اس طرح کا جواب لے کر آتے ہیں تو ڈائریکشن پر عملدرآمد کیسے ہوگا؟ ۔انہوں نے ریمارکس دیئے کہ پوری تیاری کے بجائے کئی افسران تو مشکل سے اپنا بوجھ اٹھا کر آتے ہیں۔ چیف جسٹس نے ڈی پی او سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سکھائیے کہ عدالتوں میں کس طرح پیش ہونا ہے۔

چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیئے کہ جب چیف جسٹس کی عدالت میں ان کا یہ حال ہے تو باقی عدالتوں میں یہ کیا کرتے ہوں گے؟ ۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا اس طرح عدالتوں میں یہ پیش ہوتے ہیں؟۔ڈی پی او شیخوپورہ نے عدالت کو بتایا کہ افسران کو عدالتوں میں مکمل دستاویزات کے ساتھ پیش ہونے کی باقاعدہ ہدایات دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افسران کو بریفنگ دی جاتی ہے اور ایک روز پہلے بھی چیک کیا جائے گا۔ ڈی پی او نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا اور کوئی کوتاہی نہیں ہوگی۔بعد ازاں عدالت نے ڈی پی او شیخوپورہ کو آئندہ محتاط رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔واضح رہے کہ درخواست گزار نے ایس ایچ او فیروز والا رانا سرور کے خلاف 2025ء میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں